کوئی تعبیر مرے خواب میں در آئی ہے
Babar Zuhrabکوئی تعبیر مرے خواب میں در آئی ہے
جل پری جس طرح تالاب میں در آئی ہے
کیا زمیں اور زمانے کا سفر تھا دشوار
کیوں تھکن وقت کے اعصاب میں در آئی ہے
دیکھتا رہتا ہوں میں جانب افلاک کہ اب
اس کی صورت بھی تو مہتاب میں در آئی ہے
بات میں زہر ملایا ہے اسی دوری نے
تلخیٔ ہجر ادب آداب میں در آئی ہے
یہ ندی جس میں مری بستیاں بہہ جائیں گی
ہے یہ سیلاب کہ سیلاب میں در آئی ہے
وہ گھڑی جس نے بڑھایا ہے محبت کا وقار
دیکھ لے اب ترے ظہرابؔ میں در آئی ہے