سفر کی ظلمتوں میں یہ ستارہ چاہیے مجھ کو
Babar Zuhrabسفر کی ظلمتوں میں یہ ستارہ چاہیے مجھ کو
ابھی تیری محبت کا سہارا چاہیے مجھ کو
کوئی تازہ بہت تازہ نظر کا زاویہ مل جائے
کوئی روشن بہت روشن نظارہ چاہیے مجھ کو
مرے الفاظ کی جھولی کہیں خالی نہ رہ جائے
یہ جو سرمایۂ غم ہے یہ سارا چاہیے مجھ کو
کوئی برسات کا بادل یہاں بار دگر آئے
دھنک جیسا کوئی لمحہ دوبارہ چاہیے مجھ کو
خدائے بحر مجھ کو پانیوں میں سانس دی توں نے
مگر اب اس سمندر سے کنارہ چاہئے مجھ کو
ابھی تو اک ستارے پر قدم میں نے جمائے ہیں
ابھی تو آسماں سارے کا سارا چاہیے مجھ کو
تری خواہش کے آنگن میں ہو میرے پیار کی چھایا
مکمل اس حویلی پر اجارا چاہیے مجھ کو
ابھی ظہرابؔ اس کو دیکھتا ہوں چشم حیرت سے
ابھی دریاے حیرت کا کنارہ چاہیے مجھ کو