ہجر کا آئنہ نہ ہو جانا
Babar Zuhrabہجر کا آئنہ نہ ہو جانا
خود سے مل کر جدا نہ ہو جانا
مجھ کو سچ بولنے کی عادت ہے
دوست مجھ سے خفا نہ ہو جانا
جب کوئی راستہ نہ دے تم کو
اپنی جانب روانہ ہو جانا
اہتماماً بشر نہ ہو سکے تو
انتقاماً خدا نہ ہو جانا
سل کو سینے میں کون رکھتا ہے
دل کا ہم قافیہ نہ ہو جانا
قفس عشق ہے یہ جیل نہیں
قیدیو تم رہا نہ ہو جانا
آنکھ کھلتے ہی صبح دھلتے ہی
خواب کا بے ٹھکانہ ہو جانا
گر زمانہ نہ مل سکے ظہرابؔ
تم خود اپنا زمانہ ہو جانا