اک ایک لفظ کو برتوں گر اہتمام سے میں
Babar Zuhrabاک ایک لفظ کو برتوں گر اہتمام سے میں
مقام اپنا بنا سکتا ہوں کلام سے میں
وگرنہ اس کی نظر مجھ پہ پڑ گئی ہوتی
خدا کا شکر پکارا گیا نہ نام سے میں
جواب میں مجھے ملتی ہے رات کی کالک
سوال کرتا ہوں جب بھی چراغ شام سے میں
اسی لیے تو مقدر پہ ناز ہے مجھ کو
کہ بادشاہ بنایا گیا غلام سے میں
لگا رہا ہوں صدا اپنے دل کے ایواں میں
بلا رہا ہوں تجھے کتنے احترام سے میں
وہ آگ مجھ میں بھڑکتی ہے جاں تڑکتی ہے
جو آگ لے گیا جلتے ہوئے خیام سے میں
سمجھ رہا تھا کہ ظہرابؔ ہوں مگر پھر بھی
نکل سکا نہ محبت تمھارے دام سے میں