Poetry
- نالہ جان خستہ جاں عرش بریں پہ جائے کیوںمیرے لئے زمین پر صاحب عرش آئے کیوںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- جو معنی مضموں ہے وہی عنواں ہےواجب ہی میں ایک صورت امکاں ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہےمانند حباب ابھر کے اتر آتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہےآواز شکست دل میں اک راگ بھی ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہیاللہ بہت نہیں تو تھوڑا ہی سہیAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیںخوشیاں دنیا کی تیرے حق میں سم ہیںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوںغم سامنے آتا ہے جدھر جاتا ہوںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیاکس کی مردود کی ہوئی ہے دنیاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نےسب دفتر پارینہ ڈبویا میں نےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہےکچھ روز میں ایک قطرہ گہر ہوتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- گرمی میں غم لبادہ نازیبا ہےمستی میں خیال بادہ نازیبا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- مر مر کے لحد میں میں نے جا پائی ہےیاں تک مجھے تیری ہی کشش لائی ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہےاک چشم زدن میں کیا سے کیا ہوتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہےہر اک ذرے میں کچھ نہ کچھ جوہر ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- ہر محفل سے بہ حال خستہ نکلاہر بزم طرب سے دل شکستہ نکلاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- ہے ان کی یہی خوشی کہ ہم غم میں رہیںہر وقت صدائے ارحم ارحم میں رہیںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- یہ سنگ نشاں ہے منزل وحدت کاپیدا ہوا پھر کوئی نہ اس صورت کاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
- یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتاکوئی تم سا نظر نہیں آتاAmjad Hyderabadi (1878–1961)