Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. نالہ جان خستہ جاں عرش بریں پہ جائے کیوںمیرے لئے زمین پر صاحب عرش آئے کیوںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  2. جو معنی مضموں ہے وہی عنواں ہےواجب ہی میں ایک صورت امکاں ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  3. کم ظرف اگر دولت و زر پاتا ہےمانند حباب ابھر کے اتر آتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  4. اس جسم کی کیچلی میں اک ناگ بھی ہےآواز شکست دل میں اک راگ بھی ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  5. اصلیت اگر نہیں تو دھوکا ہی سہیاللہ بہت نہیں تو تھوڑا ہی سہیAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  6. جو کچھ مصیبتیں ہیں تجھ پر کم ہیںخوشیاں دنیا کی تیرے حق میں سم ہیںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  7. دنیا کے ہر ایک ذرے سے گھبراتا ہوںغم سامنے آتا ہے جدھر جاتا ہوںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  8. سب کہتے ہیں مرکز بدی ہے دنیاکس کی مردود کی ہوئی ہے دنیاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  9. سرمایۂ علم و فضل کھویا میں نےسب دفتر پارینہ ڈبویا میں نےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  10. کچھ وقت سے ایک بیج شجر ہوتا ہےکچھ روز میں ایک قطرہ گہر ہوتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  11. گرمی میں غم لبادہ نازیبا ہےمستی میں خیال بادہ نازیبا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  12. مر مر کے لحد میں میں نے جا پائی ہےیاں تک مجھے تیری ہی کشش لائی ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  13. ہر ذرے پہ فضل کبریا ہوتا ہےاک چشم زدن میں کیا سے کیا ہوتا ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  14. ہر قطرے میں بحر معرفت مضمر ہےہر اک ذرے میں کچھ نہ کچھ جوہر ہےAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  15. ہر محفل سے بہ حال خستہ نکلاہر بزم طرب سے دل شکستہ نکلاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  16. ہے ان کی یہی خوشی کہ ہم غم میں رہیںہر وقت صدائے ارحم ارحم میں رہیںAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  17. یہ سنگ نشاں ہے منزل وحدت کاپیدا ہوا پھر کوئی نہ اس صورت کاAmjad Hyderabadi (1878–1961)
  18. یوں تو کیا کیا نظر نہیں آتاکوئی تم سا نظر نہیں آتاAmjad Hyderabadi (1878–1961)