Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیںمقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیںAanis Moin (1960–1986)
  2. باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہےدریا کے اس پار بھی گہرا سناٹا ہےAanis Moin (1960–1986)
  3. جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتےبچے لیکن سوئے ہوئے تھے کس سے کہانی کہتےAanis Moin (1960–1986)
  4. عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہواحصول رزق ہوا بھی تو زیر دام ہواAanis Moin (1960–1986)
  5. کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئےکچھ برگ سبز وقت سے پہلے ہی جھڑ گئےAanis Moin (1960–1986)
  6. ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہےتمہاری یادوں کے ساتھ تنہا سفر کیا ہےAanis Moin (1960–1986)
  7. وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہےبیٹھے بیٹھے ندی کنارے ڈوب گیا ہےAanis Moin (1960–1986)
  8. وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھیعجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھیAanis Moin (1960–1986)
  9. ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اوربڑھ جائے گی شاید مری تنہائی ذرا اورAanis Moin (1960–1986)
  10. یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہوگانئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہوگاAanis Moin (1960–1986)
  11. یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اوردکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اورAanis Moin (1960–1986)
  12. دانشور کہلانے والوتم کیا سمجھوAanis Moin (1960–1986)
  13. تو میرا ہےتیرے من میں چھپے ہوئے سب دکھ میرے ہیںAanis Moin (1960–1986)
  14. آج ذرا سی دیر کو اپنے اندر جھانک کر دیکھا تھاآج مرا اور اک وحشی کا ساتھ رہا پل دو پل کاAanis Moin (1960–1986)
  15. آخر کو روح توڑ ہی دے گی حصار جسمکب تک اسیر خوشبو رہے گی گلاب میںAanis Moin (1960–1986)
  16. اتارا دل کے ورق پر تو کتنا پچھتایاوہ انتساب جو پہلے بس اک کتاب پہ تھاAanis Moin (1960–1986)
  17. اندر کی دنیا سے ربط بڑھاؤ آنسؔباہر کھلنے والی کھڑکی بند پڑی ہےAanis Moin (1960–1986)
  18. بدن کی اندھی گلی تو جائے امان ٹھہریمیں اپنے اندر کی روشنی سے ڈرا ہوا ہوںAanis Moin (1960–1986)
  19. بکھر کے پھول فضاؤں میں باس چھوڑ گیاتمام رنگ یہیں آس پاس چھوڑ گیاAanis Moin (1960–1986)
  20. تمہارے نام کے نیچے کھنچی ہوئی ہے لکیرکتاب زیست ہے سادہ اس اندراج کے بعدAanis Moin (1960–1986)
  21. حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہولگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھاAanis Moin (1960–1986)
  22. درکار تحفظ ہے پہ سانس بھی لینا ہےدیوار بناؤ تو دیوار میں در رکھناAanis Moin (1960–1986)
  23. عجب انداز سے یہ گھر گرا ہےمرا ملبہ مرے اوپر گرا ہےAanis Moin (1960–1986)
  24. گونجتا ہے بدن میں سناٹاکوئی خالی مکان ہو جیسےAanis Moin (1960–1986)
  25. گہری سوچیں لمبے دن اور چھوٹی راتیںوقت سے پہلے دھوپ سروں پہ آ پہنچیAanis Moin (1960–1986)
  26. گیا تھا مانگنے خوشبو میں پھول سے لیکنپھٹے لباس میں وہ بھی گدا لگا مجھ کوAanis Moin (1960–1986)
  27. گئے زمانے کی چاپ جن کو سمجھ رہے ہووہ آنے والے اداس لمحوں کی سسکیاں ہیںAanis Moin (1960–1986)
  28. ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورجاس بار اندھیرا مرے اندر سے اٹھا ہےAanis Moin (1960–1986)
  29. میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھاپھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیاAanis Moin (1960–1986)
  30. نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوںابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوںAanis Moin (1960–1986)
  31. ہزاروں قمقموں سے جگمگاتا ہے یہ گھر لیکنجو من میں جھانک کے دیکھوں تو اب بھی روشنی کم ہےAanis Moin (1960–1986)
  32. ہماری مسکراہٹ پر نہ جانادیا تو قبر پر بھی جل رہا ہےAanis Moin (1960–1986)
  33. یاد ہے آنسؔ پہلے تم خود بکھرے تھےآئینے نے تم سے بکھرنا سیکھا تھاAanis Moin (1960–1986)