Poetry
- اک کرب مسلسل کی سزا دیں تو کسے دیںمقتل میں ہیں جینے کی دعا دیں تو کسے دیںAanis Moin (1960–1986)
- باہر بھی اب اندر جیسا سناٹا ہےدریا کے اس پار بھی گہرا سناٹا ہےAanis Moin (1960–1986)
- جیون کو دکھ دکھ کو آگ اور آگ کو پانی کہتےبچے لیکن سوئے ہوئے تھے کس سے کہانی کہتےAanis Moin (1960–1986)
- عجب تلاش مسلسل کا اختتام ہواحصول رزق ہوا بھی تو زیر دام ہواAanis Moin (1960–1986)
- کتنے ہی پیڑ خوف خزاں سے اجڑ گئےکچھ برگ سبز وقت سے پہلے ہی جھڑ گئےAanis Moin (1960–1986)
- ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہےتمہاری یادوں کے ساتھ تنہا سفر کیا ہےAanis Moin (1960–1986)
- وہ کچھ گہری سوچ میں ایسے ڈوب گیا ہےبیٹھے بیٹھے ندی کنارے ڈوب گیا ہےAanis Moin (1960–1986)
- وہ میرے حال پہ رویا بھی مسکرایا بھیعجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھیAanis Moin (1960–1986)
- ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اوربڑھ جائے گی شاید مری تنہائی ذرا اورAanis Moin (1960–1986)
- یہ اور بات کہ رنگ بہار کم ہوگانئی رتوں میں درختوں کا بار کم ہوگاAanis Moin (1960–1986)
- یہ قرض تو میرا ہے چکائے گا کوئی اوردکھ مجھ کو ہے اور نیر بہائے گا کوئی اورAanis Moin (1960–1986)
- دانشور کہلانے والوتم کیا سمجھوAanis Moin (1960–1986)
- تو میرا ہےتیرے من میں چھپے ہوئے سب دکھ میرے ہیںAanis Moin (1960–1986)
- آج ذرا سی دیر کو اپنے اندر جھانک کر دیکھا تھاآج مرا اور اک وحشی کا ساتھ رہا پل دو پل کاAanis Moin (1960–1986)
- آخر کو روح توڑ ہی دے گی حصار جسمکب تک اسیر خوشبو رہے گی گلاب میںAanis Moin (1960–1986)
- اتارا دل کے ورق پر تو کتنا پچھتایاوہ انتساب جو پہلے بس اک کتاب پہ تھاAanis Moin (1960–1986)
- اندر کی دنیا سے ربط بڑھاؤ آنسؔباہر کھلنے والی کھڑکی بند پڑی ہےAanis Moin (1960–1986)
- بدن کی اندھی گلی تو جائے امان ٹھہریمیں اپنے اندر کی روشنی سے ڈرا ہوا ہوںAanis Moin (1960–1986)
- بکھر کے پھول فضاؤں میں باس چھوڑ گیاتمام رنگ یہیں آس پاس چھوڑ گیاAanis Moin (1960–1986)
- تمہارے نام کے نیچے کھنچی ہوئی ہے لکیرکتاب زیست ہے سادہ اس اندراج کے بعدAanis Moin (1960–1986)
- حیرت سے جو یوں میری طرف دیکھ رہے ہولگتا ہے کبھی تم نے سمندر نہیں دیکھاAanis Moin (1960–1986)
- درکار تحفظ ہے پہ سانس بھی لینا ہےدیوار بناؤ تو دیوار میں در رکھناAanis Moin (1960–1986)
- عجب انداز سے یہ گھر گرا ہےمرا ملبہ مرے اوپر گرا ہےAanis Moin (1960–1986)
- گونجتا ہے بدن میں سناٹاکوئی خالی مکان ہو جیسےAanis Moin (1960–1986)
- گہری سوچیں لمبے دن اور چھوٹی راتیںوقت سے پہلے دھوپ سروں پہ آ پہنچیAanis Moin (1960–1986)
- گیا تھا مانگنے خوشبو میں پھول سے لیکنپھٹے لباس میں وہ بھی گدا لگا مجھ کوAanis Moin (1960–1986)
- گئے زمانے کی چاپ جن کو سمجھ رہے ہووہ آنے والے اداس لمحوں کی سسکیاں ہیںAanis Moin (1960–1986)
- ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورجاس بار اندھیرا مرے اندر سے اٹھا ہےAanis Moin (1960–1986)
- میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھاپھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیاAanis Moin (1960–1986)
- نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوںابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوںAanis Moin (1960–1986)
- ہزاروں قمقموں سے جگمگاتا ہے یہ گھر لیکنجو من میں جھانک کے دیکھوں تو اب بھی روشنی کم ہےAanis Moin (1960–1986)
- ہماری مسکراہٹ پر نہ جانادیا تو قبر پر بھی جل رہا ہےAanis Moin (1960–1986)
- یاد ہے آنسؔ پہلے تم خود بکھرے تھےآئینے نے تم سے بکھرنا سیکھا تھاAanis Moin (1960–1986)