نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں

Aanis Moin (1960–1986)

نہ جانے باہر بھی کتنے آسیب منتظر ہوں

ابھی میں اندر کے آدمی سے ڈرا ہوا ہوں