Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہےہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہےAah Sambhali
  2. اداسیوں کا مسلسل یہ دور چلنا ہےنہ کوئی حادثہ ہونا نہ جی بہلنا ہےAah Sambhali
  3. پس ساحل تماشا کیا ہے بڑھ کر دیکھ لینا تھاکہ پہلے پھینک کر دریا میں پتھر دیکھ لینا تھاAah Sambhali
  4. تعلقات مسلسل بھی تازیانے تھےوہ دھاگے ٹوٹ گئے جو بہت پرانے تھےAah Sambhali
  5. جاگنا سائے میں اور دھوپ میں سونا اس کااس کے احساس سے ثابت تھا نہ ہونا اس کاAah Sambhali
  6. خضر جس سے بنے اس آب بقا سے ڈریےلمبی عمروں سے بزرگوں کی دعا سے ڈریےAah Sambhali
  7. سدا بہار جو تھے درد وہ پرانے گئےہمارے ساتھ میں موسم بھی سب سہانے گئےAah Sambhali
  8. صبح بے نور نہ ہو دھیان میں رکھایک سورج کو گریبان میں رکھAah Sambhali
  9. کوئی رکنے کی ترے شہر میں تدبیر نہ تھیمیرے ہاتھوں میں تری زلف بھی زنجیر نہ تھیAah Sambhali
  10. مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائیدریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائیAah Sambhali
  11. مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤںورق ورق ہوں کسی دن کتاب بن جاؤںAah Sambhali
  12. وہ تو ہے دشمن جاں داد وفا کیا دے گاجو کبھی زہر نہ دے پایا دوا کیا دے گاAah Sambhali
  13. وہ واہمہ ہے کہاں یہ اصول جانا تھاملے تھے اس سے تو پھر اس کو بھول جانا تھاAah Sambhali
  14. یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیںمحبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیںAah Sambhali