Poetry
- اب نہ وہ عشق نہ کچھ اس کی خبر باقی ہےہے سفر ختم اک آشوب سفر باقی ہےAah Sambhali
- اداسیوں کا مسلسل یہ دور چلنا ہےنہ کوئی حادثہ ہونا نہ جی بہلنا ہےAah Sambhali
- پس ساحل تماشا کیا ہے بڑھ کر دیکھ لینا تھاکہ پہلے پھینک کر دریا میں پتھر دیکھ لینا تھاAah Sambhali
- تعلقات مسلسل بھی تازیانے تھےوہ دھاگے ٹوٹ گئے جو بہت پرانے تھےAah Sambhali
- جاگنا سائے میں اور دھوپ میں سونا اس کااس کے احساس سے ثابت تھا نہ ہونا اس کاAah Sambhali
- خضر جس سے بنے اس آب بقا سے ڈریےلمبی عمروں سے بزرگوں کی دعا سے ڈریےAah Sambhali
- سدا بہار جو تھے درد وہ پرانے گئےہمارے ساتھ میں موسم بھی سب سہانے گئےAah Sambhali
- صبح بے نور نہ ہو دھیان میں رکھایک سورج کو گریبان میں رکھAah Sambhali
- کوئی رکنے کی ترے شہر میں تدبیر نہ تھیمیرے ہاتھوں میں تری زلف بھی زنجیر نہ تھیAah Sambhali
- مت فکر مداوا کر اے دست مسیحائیدریاؤں سے گہری ہے اس زخم کی گہرائیAah Sambhali
- مجھے بھی پڑھ لو کہ حرف ثواب بن جاؤںورق ورق ہوں کسی دن کتاب بن جاؤںAah Sambhali
- وہ تو ہے دشمن جاں داد وفا کیا دے گاجو کبھی زہر نہ دے پایا دوا کیا دے گاAah Sambhali
- وہ واہمہ ہے کہاں یہ اصول جانا تھاملے تھے اس سے تو پھر اس کو بھول جانا تھاAah Sambhali
- یہاں مکینوں سے خالی مکان رہتے ہیںمحبتیں نہیں رہتیں گمان رہتے ہیںAah Sambhali