Poetry
- ناصح کی شکایت وہی زخم جاں ہےساقی و شراب ہی کا نوحہ خواں ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- وہ وقت شباب وہ زمانہ نہ رہاوہ نشہ مستی وہ ترانہ نہ رہاQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہر روز خوشی ہے شب غم سے پامالخالی کا ہے چاند بعد شہر شوالQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہر زخم جگر کھایا ہے دل پر تن کرچھلنی کہ ہوا شکل کلیجا چھن کرQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجرہر سال نئے پھولتے پھلتے ہیں ثمرQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہم کوں ہیں اہتمام کرنے والےہر کام میں صبح و شام کرنے والےQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہے بس کہ جوانی میں بڑھاپے کا غمہر سانس سے آتی ہے صداۓ ماتمQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہے مہر کرم گناہ گاری میریامضائے نوید امیدواری میریQalaq Meerathi (1835–1880)
- یاں نفس کی شوخی سے ہے مجنوں لیلیٰقانع ہے تو مت بہر نفی کہنا لاQalaq Meerathi (1835–1880)
- یہ شہر بلند عالم بالا سے تھاہم شکل غرض جنت ماویٰ سے تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
- یہ وہم دوئی دل سے جدا کرنا تھااس قطرے کو دریا میں فنا کرنا تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
- آسماں اہل زمیں سے کیا کدورت ناک تھامدعی بھی خاک تھی اور مدعا بھی خاک تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
- اشک کے گرتے ہی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیاکون سی حسرت کا یا رب یہ چراغ خانہ تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
- امن اور تیرے عہد میں ظالمکس طرح خاک رہ گزر بیٹھےQalaq Meerathi (1835–1880)
- اندازہ آدمی کا کہاں گر نہ ہو شرابپیمانہ زندگی کا نہیں گر سبو نہ ہوQalaq Meerathi (1835–1880)
- بت خانے کی الفت ہے نہ کعبے کی محبتجویائی نیرنگ ہے جب تک کہ نظر ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- پڑا ہے دیر و کعبہ میں یہ کیسا غل خدا جانےکہ وہ پردہ نشیں باہر نہ آ جانے نہ جا جانےQalaq Meerathi (1835–1880)
- تجھ سے اے زندگی گھبرا ہی چلے تھے ہم توپر تشفی ہے کہ اک دشمن جاں رکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- تری نوید میں ہر داستاں کو سنتے ہیںتری امید میں ہر رہ گزر کو دیکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- تو دیکھ تو ادھر کہ جو دیکھا نہ جائے پھرتو گفتگو کرے تو کبھی گفتگو نہ ہوQalaq Meerathi (1835–1880)
- تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہیتو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہیQalaq Meerathi (1835–1880)
- جبین پارسا کو دیکھ کر ایماں لرزتا ہےمعاذ اللہ کہ کیا انجام ہے اس پارسائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- جو کہتا ہے وہ کرتا ہے برعکس اس کے کامہم کو یقیں ہے وعدۂ نا استوار کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- خدا سے ڈرتے تو خوف خدا نہ کرتے ہمکہ یاد بت سے حرم میں بکا نہ کرتے ہمQalaq Meerathi (1835–1880)
- خود کو کبھی نہ دیکھا آئینے ہی کو دیکھاہم سے تو کیا کہ خود سے نا آشنا رہا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
- دل کے ہر جزو میں جدائی ہےدرد اٹھے آبلہ اگر بیٹھےQalaq Meerathi (1835–1880)
- رحم کر مستوں پہ کب تک طاق پر رکھے گا توساغر مے ساقیا زاہد کا ایماں ہو گیاQalaq Meerathi (1835–1880)
- زہے قسمت کہ اس کے قیدیوں میں آ گئے ہم بھیولے شور سلاسل میں ہے اک کھٹکا رہائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- شہر ان کے واسطے ہے جو رہتے ہیں تجھ سے دورگھر ان کا پھر کہاں جو ترے دل میں گھر کریںQalaq Meerathi (1835–1880)
- فکر ستم میں آپ بھی پابند ہو گئےتم مجھ کو چھوڑ دو تو میں تم کو رہا کروںQalaq Meerathi (1835–1880)
- کدھر قفس تھا کہاں ہم تھے کس طرف یہ قیدکچھ اتفاق ہے صیاد آب و دانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- کفر اور اسلام میں دیکھا تو نازک فرق تھادیر میں جو پاک تھا کعبے میں وہ ناپاک تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیا خانہ خرابوں کا لگے تیرے ٹھکانااس شہر میں رہتے ہیں جہاں گھر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- کیوں کر نہ آستیں میں چھپا کر پڑھیں نمازحق تو ہے یہ عزیز ہیں بت ہی خدا کے بعدQalaq Meerathi (1835–1880)
- گلی سے اپنی ارادہ نہ کر اٹھانے کاترا قدم ہوں نہ فتنہ ہوں میں زمانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- میں راز داں ہوں یہ کہ جہاں تھا وہاں نہ تھاتو بد گماں ہے وہ کہ جہاں ہے وہاں نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
- نہ لگتی آنکھ تو سونے میں کیا برائی تھیخبر کچھ آپ کی ہوتی تو بے خبر ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- واعظ یہ مے کدہ ہے نہ مسجد کہ اس جگہذکر حلال پر بھی ہے فتویٰ حرام کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- وہ ذکر تھا تمہارا جو انتہا سے گزرایہ قصہ ہے ہمارا جو ناتمام نکلاQalaq Meerathi (1835–1880)
- وہ سنگ دل انگشت بدنداں نظر آوےایسا کوئی صدمہ مری جاں پر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہر سنگ میں کعبہ کے نہاں عشوۂ بت ہےکیا بانیٔ اسلام بھی غارت گر دیں تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہم اس کوچے میں اٹھنے کے لیے بیٹھے ہیں مدت سےمگر کچھ کچھ سہارا ہے ابھی بے دست و پائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
- ہو محبت کی خبر کچھ تو خبر پھر کیوں ہویہ بھی اک بے خبری ہے کہ خبر رکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)