Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ناصح کی شکایت وہی زخم جاں ہےساقی و شراب ہی کا نوحہ خواں ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  2. وہ وقت شباب وہ زمانہ نہ رہاوہ نشہ مستی وہ ترانہ نہ رہاQalaq Meerathi (1835–1880)
  3. ہر روز خوشی ہے شب غم سے پامالخالی کا ہے چاند بعد شہر شوالQalaq Meerathi (1835–1880)
  4. ہر زخم جگر کھایا ہے دل پر تن کرچھلنی کہ ہوا شکل کلیجا چھن کرQalaq Meerathi (1835–1880)
  5. ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجرہر سال نئے پھولتے پھلتے ہیں ثمرQalaq Meerathi (1835–1880)
  6. ہم کوں ہیں اہتمام کرنے والےہر کام میں صبح و شام کرنے والےQalaq Meerathi (1835–1880)
  7. ہے بس کہ جوانی میں بڑھاپے کا غمہر سانس سے آتی ہے صداۓ ماتمQalaq Meerathi (1835–1880)
  8. ہے مہر کرم گناہ گاری میریامضائے نوید امیدواری میریQalaq Meerathi (1835–1880)
  9. یاں نفس کی شوخی سے ہے مجنوں لیلیٰقانع ہے تو مت بہر نفی کہنا لاQalaq Meerathi (1835–1880)
  10. یہ شہر بلند عالم بالا سے تھاہم شکل غرض جنت ماویٰ سے تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  11. یہ وہم دوئی دل سے جدا کرنا تھااس قطرے کو دریا میں فنا کرنا تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  12. آسماں اہل زمیں سے کیا کدورت ناک تھامدعی بھی خاک تھی اور مدعا بھی خاک تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  13. اشک کے گرتے ہی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیاکون سی حسرت کا یا رب یہ چراغ خانہ تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  14. امن اور تیرے عہد میں ظالمکس طرح خاک رہ گزر بیٹھےQalaq Meerathi (1835–1880)
  15. اندازہ آدمی کا کہاں گر نہ ہو شرابپیمانہ زندگی کا نہیں گر سبو نہ ہوQalaq Meerathi (1835–1880)
  16. بت خانے کی الفت ہے نہ کعبے کی محبتجویائی نیرنگ ہے جب تک کہ نظر ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  17. پڑا ہے دیر و کعبہ میں یہ کیسا غل خدا جانےکہ وہ پردہ نشیں باہر نہ آ جانے نہ جا جانےQalaq Meerathi (1835–1880)
  18. تجھ سے اے زندگی گھبرا ہی چلے تھے ہم توپر تشفی ہے کہ اک دشمن جاں رکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  19. تری نوید میں ہر داستاں کو سنتے ہیںتری امید میں ہر رہ گزر کو دیکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  20. تو دیکھ تو ادھر کہ جو دیکھا نہ جائے پھرتو گفتگو کرے تو کبھی گفتگو نہ ہوQalaq Meerathi (1835–1880)
  21. تو ہے ہرجائی تو اپنا بھی یہی طور سہیتو نہیں اور سہی اور نہیں اور سہیQalaq Meerathi (1835–1880)
  22. جبین پارسا کو دیکھ کر ایماں لرزتا ہےمعاذ اللہ کہ کیا انجام ہے اس پارسائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  23. جو کہتا ہے وہ کرتا ہے برعکس اس کے کامہم کو یقیں ہے وعدۂ نا استوار کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  24. خدا سے ڈرتے تو خوف خدا نہ کرتے ہمکہ یاد بت سے حرم میں بکا نہ کرتے ہمQalaq Meerathi (1835–1880)
  25. خود کو کبھی نہ دیکھا آئینے ہی کو دیکھاہم سے تو کیا کہ خود سے نا آشنا رہا ہےQalaq Meerathi (1835–1880)
  26. دل کے ہر جزو میں جدائی ہےدرد اٹھے آبلہ اگر بیٹھےQalaq Meerathi (1835–1880)
  27. رحم کر مستوں پہ کب تک طاق پر رکھے گا توساغر مے ساقیا زاہد کا ایماں ہو گیاQalaq Meerathi (1835–1880)
  28. زہے قسمت کہ اس کے قیدیوں میں آ گئے ہم بھیولے شور سلاسل میں ہے اک کھٹکا رہائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  29. شہر ان کے واسطے ہے جو رہتے ہیں تجھ سے دورگھر ان کا پھر کہاں جو ترے دل میں گھر کریںQalaq Meerathi (1835–1880)
  30. فکر ستم میں آپ بھی پابند ہو گئےتم مجھ کو چھوڑ دو تو میں تم کو رہا کروںQalaq Meerathi (1835–1880)
  31. کدھر قفس تھا کہاں ہم تھے کس طرف یہ قیدکچھ اتفاق ہے صیاد آب و دانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  32. کفر اور اسلام میں دیکھا تو نازک فرق تھادیر میں جو پاک تھا کعبے میں وہ ناپاک تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  33. کیا خانہ خرابوں کا لگے تیرے ٹھکانااس شہر میں رہتے ہیں جہاں گھر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
  34. کیوں کر نہ آستیں میں چھپا کر پڑھیں نمازحق تو ہے یہ عزیز ہیں بت ہی خدا کے بعدQalaq Meerathi (1835–1880)
  35. گلی سے اپنی ارادہ نہ کر اٹھانے کاترا قدم ہوں نہ فتنہ ہوں میں زمانے کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  36. میں راز داں ہوں یہ کہ جہاں تھا وہاں نہ تھاتو بد گماں ہے وہ کہ جہاں ہے وہاں نہیںQalaq Meerathi (1835–1880)
  37. نہ لگتی آنکھ تو سونے میں کیا برائی تھیخبر کچھ آپ کی ہوتی تو بے خبر ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
  38. واعظ یہ مے کدہ ہے نہ مسجد کہ اس جگہذکر حلال پر بھی ہے فتویٰ حرام کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  39. وہ ذکر تھا تمہارا جو انتہا سے گزرایہ قصہ ہے ہمارا جو ناتمام نکلاQalaq Meerathi (1835–1880)
  40. وہ سنگ دل انگشت بدنداں نظر آوےایسا کوئی صدمہ مری جاں پر نہیں ہوتاQalaq Meerathi (1835–1880)
  41. ہر سنگ میں کعبہ کے نہاں عشوۂ بت ہےکیا بانیٔ اسلام بھی غارت گر دیں تھاQalaq Meerathi (1835–1880)
  42. ہم اس کوچے میں اٹھنے کے لیے بیٹھے ہیں مدت سےمگر کچھ کچھ سہارا ہے ابھی بے دست و پائی کاQalaq Meerathi (1835–1880)
  43. ہو محبت کی خبر کچھ تو خبر پھر کیوں ہویہ بھی اک بے خبری ہے کہ خبر رکھتے ہیںQalaq Meerathi (1835–1880)