ہے بس کہ جوانی میں بڑھاپے کا غم
Qalaq Meerathi (1835–1880)ہے بس کہ جوانی میں بڑھاپے کا غم
ہر سانس سے آتی ہے صداۓ ماتم
ہم رنگ عجب کاہش و افزائش ہے
بڑھتی ہے اگر عمر تو گھٹتے ہیں ہم
ہے بس کہ جوانی میں بڑھاپے کا غم
ہر سانس سے آتی ہے صداۓ ماتم
ہم رنگ عجب کاہش و افزائش ہے
بڑھتی ہے اگر عمر تو گھٹتے ہیں ہم