ناصح کی شکایت وہی زخم جاں ہے

Qalaq Meerathi (1835–1880)

ناصح کی شکایت وہی زخم جاں ہے

ساقی و شراب ہی کا نوحہ خواں ہے

دیکھوں تو اسے یاد ہیں کیا کیا باتیں

اللہ رے ترا حافظہ کیا شیطاں ہے