ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجر

Qalaq Meerathi (1835–1880)

ہر فصل میں ہوتے ہیں جواں سارے شجر

ہر سال نئے پھولتے پھلتے ہیں ثمر

انساں کی کوئی فصل نہ پھر کر آئے

اول ہی کا جھوکا ہے بہار آخر