ہے مہر کرم گناہ گاری میری

Qalaq Meerathi (1835–1880)

ہے مہر کرم گناہ گاری میری

امضائے نوید امیدواری میری

کر رحم نہ انصاف کہ سب جانتے ہیں

رحمت تیری تباہ کاری میری