Poetry
- وہ کیا دن تھے جو قاتل بن دل رنجور رو دیتامرا ہر زخم جوں وہ تیغ ہوتی دور، رو دیتاWali Uzlat (1692–1775)
- ہنسوں جوں گل ترے زخموں سے الفت اس کو کہتے ہیںتو گالی دے دعاؤں میں محبت اس کو کہتے ہیںWali Uzlat (1692–1775)
- ہوئے ہم جب سے پیدا اپنے دیوانے ہوئے ہوتےخدا کو ہم پہنچتے خود سے بیگانے ہوئے ہوتےWali Uzlat (1692–1775)
- ہے اس کی زلف سے نت پنجۂ عدو گستاخمرا غبار وہ دامن سے ہے کبھو گستاخWali Uzlat (1692–1775)
- یار اٹھ گئے دنیا سے اغیار کی باری ہےگل سیر چمن کر گئے اب خار کی باری ہےWali Uzlat (1692–1775)
- درد جوں شمع ملے ہے شب ہجراں مجھ کوکھا گئے رو رو مرے دیدۂ گریاں مجھ کوWali Uzlat (1692–1775)
- مجھ قبر سے یار کیونکے جاوےہے شمع مزار کیونکے جاوےWali Uzlat (1692–1775)
- میرے اشکوں کی گئی تھی ریل ویرانے پہ کیا گزراخبر نیں حضرت مجنوں کے کاشانے پہ کیا گزراWali Uzlat (1692–1775)