Poetry
Jameel Musamman Salim
جمیل مثمن سالم- کہیں کیا تم سوں بے درد لوگو کسی سے جی کا مرم نہ پایاکبھی نہ بوجھی یتھا ہماری برہ نیں کیا اب ہمیں ستایاShah Mubarak Abru (1683–1733)
- گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجےکرم تمہارے کی کر توقع یہ عرض کیتے ہیں مان لیجےShah Mubarak Abru (1683–1733)
- ملا دئے خاک میں خدا نے پلک کے لگتے ہی شاہ لاکھوںجنہوں کے ادنیٰ غلام رکھتے تھے اپنے چاکر سپاہ لاکھوںShah Hatim (1699–1783)
- ادا کے توسن پر اس صنم کو جو آج ہم نے سوار دیکھاتو ہلتے ہی ٹک عناں کے کیا کیا کچلتے صبر و قرار دیکھاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- اگر ہے منظور یہ کہ ہووے ہمارے سینے کا داغ ٹھنڈاتو آ لپٹئے گلے سے اے جاں جھمک سے کر جھپ چراغ ٹھنڈاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- بتوں کی مجلس میں شب کو مہ رو جو اور ٹک بھی قیام کرتاکنشت ویراں صنم کو بندہ برہمنوں کو غلام کرتاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو تم نے پوچھا تو حرف الفت بر آیا صاحب ہمارے لب سےسو اس کو سن کر ہوے خفا تم نہ کہتے تھے ہم اسی سبب سےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جو دل کو دیجے تو دل میں خوش ہو کرے ہے کس کس طرح سے ہلچلاگر نہ دیجے تو وو ہیں کیا کیا جتاوے خفگی عتاب اکڑ بلNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- جہاں ہے قد اس کا جلوہ فرما تو سرو واں کس حساب میں ہےوہ قامت ایسا ہے کچھ قیامت قیامت اس کی رکاب میں ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- دھواں کلیجے سے میرے نکلا جلا جو دل بس کہ رشک کھا کروہ رشک یہ تھا کہ غیر سے ٹک ہنسا تھا چنچل مسی لگا کرNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- صنم کے کوچے میں چھپ کے جانا اگرچہ یوں ہے خیال دل کاپہ وہ تو جاتے ہی تاڑ لے گا پھر آنا ہوگا محال دل کاNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- کہا تھا ہم نے تجھے تو اے دل کہ چاہ کی مے کو تو نہ پیناجو اس کو پی کر تو ایسا بہکا کہ ہم کو مشکل ہوا ہے جیناNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- نگہ لڑانے کہ آگے اس کی ہے ناز کرتی پڑی لگاوٹحنا دکھانے کہ سامنے بھی ہے دست بستہ کھڑی لگاوٹNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- ہم ایسے کب تھے کہ خود بدولت یہاں بھی کرتے قدم نوازشمگر یہ اک اک قدم پر اے جاں فقط عنایت کرم نوازشNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- یہ حسن ہے آہ یا قیامت کہ اک بھبھوکا بھبھک رہا ہےفلک پہ سورج بھی تھرتھرا کر منہ اس کا حیرت سے تک رہا ہےNazeer Akbarabadi (1735–1830)
- تمہارے ہاتھوں کی انگلیوں کی یہ دیکھو پوریں غلام تیسوںغرض کہ غش ہے اگر نہ مانو تو جھٹ اٹھا لے کلام تیسوںInsha Allah Khan Insha (1752–1817)
- جگر کا جوں شمع کاش یارب ہو داغ روشن مراد حاصلکہ دل کو لو لگ رہی یہی ہے چراغ روشن مراد حاصلShah Naseer (1756–1838)
- طلب میں بوسے کی کیا ہے حجت سوال دیگر جواب دیگرسمجھ کے کہہ بات بے مروت سوال دیگر جواب دیگرShah Naseer (1756–1838)
- پھر اس کے پھندے میں جا رہے ہیں کہ جس کے پھندے میں جا چکے تھےوہی مصیبت اٹھا رہے ہیں کہ جو مصیبت اٹھا چکے تھےNaseem Dehlvi (1794–1864)
- گیا سب اندوہ اپنے دل کا تھمے اب آنسو قرار آیانصیب جاگے ستارہ چمکا پھرے دن اپنے وہ یار آیاImdad Ali Bahr (1810–1878)
- جہاں میں زر کا ہے کارخانہ نہ کوئی اپنا نہ ہے یگانہتلاش دولت میں ہے زمانہ خدا ہی حافظ ہے مفلسی کاGeorge Puech Shor (1823–1894)
- عدم سے ہستی میں جب ہم آئے نہ کوئی ہمدرد ساتھ لائےجو اپنے تھے وہ ہوئے پرائے اب آسرا ہے تو بیکسی کاGeorge Puech Shor (1823–1894)
- ہوا جو پیوند میں زمیں کا تو دل ہوا شاد مجھ حزیں کابس اب ارادہ نہیں کہیں کا کہ رہنے والا ہوں میں یہیں کاAmeer Minai (1829–1900)
- تری طہارت کو شیخ کہہ تو کہاں سے لائیں اک آب جو ہمطواف دل کا ہے قصد ہم کو کریں ہیں آنسو سے نت وضو ہمJoshish Azimabadi (d. 1830)
- ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرناتمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرناDagh Dehlvi (1831–1905)
- کیا ہے دیں دار اس صنم کو ہزاروں طوفاں اٹھا اٹھا کرلگائیں وہ تہمتیں کہ بولا خدا خدا کر خدا خدا کرDagh Dehlvi (1831–1905)
- مجال کس کی ہے اے ستم گر سنائے تجھ کو جو چار باتیںبھلا کیا اعتبار تو نے ہزار منہ ہیں ہزار باتیںDagh Dehlvi (1831–1905)
- امید ٹوٹی ہوئی ہے میری جو دل مرا تھا وہ مر چکا ہےجو زندگانی کو تلخ کر دے وہ وقت مجھ پر گزر چکا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- جلائے جب شعلۂ تحیر تو ذہن ڈھونڈھے پناہ کس کییہ کس کے معنی ہوئے ہیں ثابت یہ صورتیں ہیں گواہ کس کیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- خدا کی ہستی کو یاد رکھنا اور اپنی ہستی کو بھول جانانظر اسی پر ہے اور باتوں کو میں نے بالکل فضول جاناAkbar Allahabadi (1846–1921)
- خوشی ہے سب کو کہ آپریشن میں خوب نشتر یہ چل رہا ہےکسی کو اس کی خبر نہیں ہے مریض کا دم نکل رہا ہےAkbar Allahabadi (1846–1921)
- خیال دوڑا نگاہ اٹھی قلم نے لکھا زبان بولیمگر وہی دل کی الجھنیں ہیں کسی نے اس کی گرہ نہ کھولیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- نہ روح مذہب نہ قلب عارف نہ شاعرانہ زبان باقیزمیں ہماری بدل گئی ہے اگرچہ ہے آسمان باقیAkbar Allahabadi (1846–1921)
- ہوائے شب بھی ہے عنبر افشاں عروج بھی ہے مہ مبیں کانثار ہونے کی دو اجازت محل نہیں ہے نہیں نہیں کاAkbar Allahabadi (1846–1921)
- نہ تارے افشاں نہ کہکشاں ہے نمونہ ہنستی ہوئی جبیں کاکھلا ہے پرچم گڑا ہے جھنڈا فلک پر اس آہ آتشیں کاRiyaz Khairabadi (1853–1934)
- ہنسی میں وہ بات میں نے کہہ دی کہ رہ گئے آپ دنگ ہو کرچھپا ہوا تھا جو راز دل میں کھلا وہ چہرہ کا رنگ ہو کرNazm Tabatabai (1854–1933)
- تلاش جس نور کی ہے تجھ کو چھپا ہے تیرے بدن کے اندرظہور عالم ہوا اسی سے وہ ہے ہر اک جان و تن کے اندرPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- یہی تمنائے دل ہے ان کی جدھر کو رخ ہو ادھر کو چلئےہوا ہے گو اشتیاق بے حد جما کے پائے نظر کو چلئےPandit Jawahar Nath Saqi (1864–1916)
- غرور الفت کی طرز نازش عجب کرشمے دکھا رہی ہےہماری روٹھی ہوئی نظر کو تری تجلی منا رہی ہےMuztar Khairabadi (1865–1927)
- مری طرف سے یہ بے خیالی نہ جانے ان کو خیال کیا ہےکبھی نہ پوچھا ملال کیا ہے کبھی نہ دیکھا کہ حال کیا ہےJaleel Manikpuri (1866–1946)
- گھٹا دیا رتبہ ہر حسیں کا مٹا دیا رنگ حور عین کانہیں ہے یہ چاند چودھویں کا شباب کا میرے مہ جبیں کاJaleel Manikpuri (1866–1946)
- کوئی نہ دیکھا کہ واپس آیا خدا کے گھر ایک بار جا کروہ دیر و کعبہ میں ہے مقید خدا خدا کر خدا خدا کرBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- عجب زمانے کی گردشیں ہیں خدا ہی بس یاد آ رہا ہےنظر نہ جس سے ملاتے تھے ہم وہی اب آنکھیں دکھا رہا ہےHafeez Jaunpuri (1868–1959)
- کسی گمان و یقین کی حد میں وہ شوخ پردہ نشیں نہیں ہےجہاں نہ سمجھو اسی جگہ ہے جہاں سمجھ لو وہیں نہیں ہےArzoo Lakhnavi (1873–1951)
- الٰہی عقلِ خجستہ پے کو ذرا سی دیوانگی سِکھا دےاسے ہے سودائے بخیہ کاری، مجھے سرِ پیرہن نہیں ہےAllama Iqbal (1877–1938)
- زمانہ دیکھے گا جب مرے دل سے محشر اُٹھّے گا گفتگو کامری خموشی نہیں ہے، گویا مزار ہے حرفِ آرزو کاAllama Iqbal (1877–1938)
- زمانہ آیا ہے بے حجابی کا، عام دیدارِ یار ہو گاسکُوت تھا پردہ دار جس کا، وہ راز اب آشکار ہوگاAllama Iqbal (1877–1938)
- قطعہAllama Iqbal (1877–1938)
- زمانہAllama Iqbal (1877–1938)