جلائے جب شعلۂ تحیر تو ذہن ڈھونڈھے پناہ کس کی

Akbar Allahabadi (1846–1921)

جلائے جب شعلۂ تحیر تو ذہن ڈھونڈھے پناہ کس کی

یہ کس کے معنی ہوئے ہیں ثابت یہ صورتیں ہیں گواہ کس کی

یہ چشم لیلیٰ کہاں سے آئی یہ قلب محزوں کہاں سے ابھرا

جو با خبر ہیں انہیں خبر ہے نگاہ کس کی ہے آہ کس کی

جمال فطرت کے لاکھ پرتو قبول پرتو کی لاکھ شکلیں

طریق عرفاں میں کیا بتاؤں یہ راہ کس کی وہ راہ کس کی

یہ کس کے عشوں کا سامنا ہے کہ لذت ہوش ہو گئی گم

خودی سے کچھ ہو چلا ہوں غافلؔ پڑی ہے مجھ پر نگاہ کس کی