Poetry
- انداز زمانے کا ویسا ہی رہا پھر بھیسو بار سنایا اور سو بار کہا صاحبZafar Mehdi
- بہت ویرانیاں ہوتے ہوئے آباد ہو جاناکرشمہ ہے دل ناشاد کا یوں شاد ہو جاناZafar Mehdi
- تابش چشم تر میں رہتے ہیںعکس دیوار و در میں رہتے ہیںZafar Mehdi
- خوش خرامی کو تری ایک چمن زار تو ہوگل سے بلبل کو جہاں باہمی تکرار تو ہوZafar Mehdi
- زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئےہم تو دنیا میں فقط خاک اڑانے آئےZafar Mehdi
- محبت کی حرارت سے ہوا سارا لہو آتشتخیل شبنمی ہے گرچہ میری گفتگو آتشZafar Mehdi
- میرے قبضے میں لب کشائی ہےاب اسیری نہیں رہائی ہےZafar Mehdi
- میں خود کو آزمانا چاہتا ہوںہوا پر آشیانہ چاہتا ہوںZafar Mehdi
- یہ جو فطرت میں خاکساری ہےباعث فخر وضع داری ہےZafar Mehdi
- ہوائیں چلتے چلتے تھک گئی ہیںدعاؤں میں اثر جاتا رہا ہےZafar Mehdi