Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. انداز زمانے کا ویسا ہی رہا پھر بھیسو بار سنایا اور سو بار کہا صاحبZafar Mehdi
  2. بہت ویرانیاں ہوتے ہوئے آباد ہو جاناکرشمہ ہے دل ناشاد کا یوں شاد ہو جاناZafar Mehdi
  3. تابش چشم تر میں رہتے ہیںعکس دیوار و در میں رہتے ہیںZafar Mehdi
  4. خوش خرامی کو تری ایک چمن زار تو ہوگل سے بلبل کو جہاں باہمی تکرار تو ہوZafar Mehdi
  5. زندگی کرنے کے حیلے نہ بہانے آئےہم تو دنیا میں فقط خاک اڑانے آئےZafar Mehdi
  6. محبت کی حرارت سے ہوا سارا لہو آتشتخیل شبنمی ہے گرچہ میری گفتگو آتشZafar Mehdi
  7. میرے قبضے میں لب کشائی ہےاب اسیری نہیں رہائی ہےZafar Mehdi
  8. میں خود کو آزمانا چاہتا ہوںہوا پر آشیانہ چاہتا ہوںZafar Mehdi
  9. یہ جو فطرت میں خاکساری ہےباعث فخر وضع داری ہےZafar Mehdi
  10. ہوائیں چلتے چلتے تھک گئی ہیںدعاؤں میں اثر جاتا رہا ہےZafar Mehdi