Poetry
- آئے تھے پردیس میں دو چار برسوں کے لئےرو رہے ہیں بیٹھ کر آئندہ نسلوں کے لئےZafar Awan (b. 1982)
- اک سکوں سا دکھتا ہے آپ کے انوپ میںجیسے کوئی بیٹھا ہو سردیوں کی دھوپ میںZafar Awan (b. 1982)
- بغض و حسد کی آگ سے باہر نکال دےمجھ کو شعور و فکر کے رستے پہ ڈال دےZafar Awan (b. 1982)
- خوش نمائی سے ماورا تو ہےہے اگر کوئی حق نما تو ہےZafar Awan (b. 1982)
- لہو نے بھگوئے مہاجر پرندےقطاروں میں روئے مہاجر پرندےZafar Awan (b. 1982)
- محبت ہو گئی ہے تو کیا میری خطا ہےمجھے ہی سوچتی ہے تو کیا میری خطا ہےZafar Awan (b. 1982)
- مرا کنبہ بلایا جا چکا تھامرا ماتم منایا جا چکا تھاZafar Awan (b. 1982)
- میری دشمن ہے سادگی میریکھا گئی مجھ کو عاجزی میریZafar Awan (b. 1982)
- نیزے پہ سر چڑھے گا سید کو سب پتا تھالیکن وہ سوئے مقتل بے خوف چل رہا تھاZafar Awan (b. 1982)
- ہوتی ہیں جل سے جیسے ندیوں کی عزتیںصدق مقال سے ہیں یاروں کی عزتیںZafar Awan (b. 1982)