Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. پھر آگہی سے یقیں کی طرف قدم نکلےگمان و وہم کی جب سرحدوں سے ہم نکلےZafar Adeem
  2. چند مخصوص عناصر سے چمن بنتا ہےکتنی ترکیب سے پھولوں سا بدن بنتا ہےZafar Adeem
  3. قدموں کے نشاں سب ماند پڑے جو سنگ میل تھا ٹوٹ گیاکچھ منزل مجھ سے چھوٹ گئی کچھ منزل سے میں چھوٹ گیاZafar Adeem
  4. میں چار سو دکھائی دوں تو چار سو ملےیہ انتہائے عشق ہے یا ارتقائے حسنZafar Adeem
  5. وہ ایک لمحہ جو ترک تعلقات کا تھاپھر اس کے بعد کہاں کوئی پل حیات کا تھاZafar Adeem
  6. گھنیرا لہجہ وہ حسن کا تھاکھلی زباں وہ جمال کی تھیZafar Adeem
  7. میں تو شاعر ہوںبس ترے حسن کو احساس بنا رکھا ہےZafar Adeem