Poetry
- پھر آگہی سے یقیں کی طرف قدم نکلےگمان و وہم کی جب سرحدوں سے ہم نکلےZafar Adeem
- چند مخصوص عناصر سے چمن بنتا ہےکتنی ترکیب سے پھولوں سا بدن بنتا ہےZafar Adeem
- قدموں کے نشاں سب ماند پڑے جو سنگ میل تھا ٹوٹ گیاکچھ منزل مجھ سے چھوٹ گئی کچھ منزل سے میں چھوٹ گیاZafar Adeem
- میں چار سو دکھائی دوں تو چار سو ملےیہ انتہائے عشق ہے یا ارتقائے حسنZafar Adeem
- وہ ایک لمحہ جو ترک تعلقات کا تھاپھر اس کے بعد کہاں کوئی پل حیات کا تھاZafar Adeem
- گھنیرا لہجہ وہ حسن کا تھاکھلی زباں وہ جمال کی تھیZafar Adeem
- میں تو شاعر ہوںبس ترے حسن کو احساس بنا رکھا ہےZafar Adeem