Poetry
- آپ اپنی بے وفائی دیکھیےہم سے اور ایسی برائی دیکھیےوزیر علی صبا لکھنؤی
- آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگاہم ہوں گے یار ہوگا جام شراب ہوگاوزیر علی صبا لکھنؤی
- آئی اے گلعذار کیا کہناخوب آئی بہار کیا کہناوزیر علی صبا لکھنؤی
- اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریاسیل گریہ نے یہ نظروں سے اتارے دریاوزیر علی صبا لکھنؤی
- ان کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوارندہ گیا پس گیا مٹی ہوا پامال ہواوزیر علی صبا لکھنؤی
- اے صبا جذب پہ جس دم دل ناشاد آیااپنی آغوش میں اڑ کر وہ پری زاد آیاوزیر علی صبا لکھنؤی
- اے صنم سب ہیں ترے ہاتھوں سے نالاں آج کلصورت ناقوس ہیں گبر و مسلماں آج کلوزیر علی صبا لکھنؤی
- باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظصورت برگ خزانی ہے زبان واعظوزیر علی صبا لکھنؤی
- بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھریصبح سو بار خریدی گئی سو بار پھریوزیر علی صبا لکھنؤی
- بچ کر کہاں میں ان کی نظر سے نکل گیااک تیر تھا کہ صاف جگر سے نکل گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
- بندہ اب ناصبور ہوتا ہےعفو ہووے قصور ہوتا ہےوزیر علی صبا لکھنؤی
- تم ہر اک رنگ میں اے یار نظر آتے ہوکہیں گل اور کہیں خار نظر آتے ہووزیر علی صبا لکھنؤی
- جو عدوئے باغ ہو برباد ہوکوئی ہو گلچیں ہو یا صیاد ہووزیر علی صبا لکھنؤی
- داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیادامن میں خار چاک گریباں میں رہ گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
- دل پر داغ باغ کس کا ہےدیدۂ تر ایاغ کس کا ہےوزیر علی صبا لکھنؤی
- دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنجپیدا کیا ہے ہم کو خدا نے برائے رنجوزیر علی صبا لکھنؤی
- دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤںپھول جاتے ہیں جوانان چمن کے ہاتھ پاؤںوزیر علی صبا لکھنؤی
- رنگ ہے اے ساقیٔ سرشار قیصر باغ میںپھول پیتے ہیں ترے مے خوار قیصر باغ میںوزیر علی صبا لکھنؤی
- عدوئے جاں بت بے باک نکلابڑا قاتل بڑا سفاک نکلاوزیر علی صبا لکھنؤی
- عشق کا اختتام کرتے ہیںدل کا قصہ تمام کرتے ہیںوزیر علی صبا لکھنؤی
- فکر رنج و راحت کیسیدوزخ کیسا جنت کیسیوزیر علی صبا لکھنؤی
- قبر پر باد فنا آئیے گابے محل پاؤں نہ پھیلائیے گاوزیر علی صبا لکھنؤی
- کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیںتوبہ ہے رو سیاہ کیا ہیںوزیر علی صبا لکھنؤی
- محشر کا ہمیں کیا غم عصیاں کسے کہتے ہیںپلے پہ وہ بت ہوگا میزاں کسے کہتے ہیںوزیر علی صبا لکھنؤی
- واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیاجام شراب لائے بھی ساقی کدھر گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
- بے تابئ دل نے زار پا کردے دے پٹکا اٹھا اٹھا کروزیر علی صبا لکھنؤی
- کوئی صورت سے گر صفا ہوآئنۂ دل خدا نما ہووزیر علی صبا لکھنؤی
- نفس نمرود ہے کیا ہونا ہےشرک موجود ہے کیا ہونا ہےوزیر علی صبا لکھنؤی