Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ اپنی بے وفائی دیکھیےہم سے اور ایسی برائی دیکھیےوزیر علی صبا لکھنؤی
  2. آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگاہم ہوں گے یار ہوگا جام شراب ہوگاوزیر علی صبا لکھنؤی
  3. آئی اے گلعذار کیا کہناخوب آئی بہار کیا کہناوزیر علی صبا لکھنؤی
  4. اشک افتادہ نظر آتے ہیں سارے دریاسیل گریہ نے یہ نظروں سے اتارے دریاوزیر علی صبا لکھنؤی
  5. ان کی رفتار سے دل کا عجب احوال ہوارندہ گیا پس گیا مٹی ہوا پامال ہواوزیر علی صبا لکھنؤی
  6. اے صبا جذب پہ جس دم دل ناشاد آیااپنی آغوش میں اڑ کر وہ پری زاد آیاوزیر علی صبا لکھنؤی
  7. اے صنم سب ہیں ترے ہاتھوں سے نالاں آج کلصورت ناقوس ہیں گبر و مسلماں آج کلوزیر علی صبا لکھنؤی
  8. باغ عالم میں ہے بے رنگ بیان واعظصورت برگ خزانی ہے زبان واعظوزیر علی صبا لکھنؤی
  9. بت پرستی سے نہ طینت مری زنہار پھریصبح سو بار خریدی گئی سو بار پھریوزیر علی صبا لکھنؤی
  10. بچ کر کہاں میں ان کی نظر سے نکل گیااک تیر تھا کہ صاف جگر سے نکل گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
  11. بندہ اب ناصبور ہوتا ہےعفو ہووے قصور ہوتا ہےوزیر علی صبا لکھنؤی
  12. تم ہر اک رنگ میں اے یار نظر آتے ہوکہیں گل اور کہیں خار نظر آتے ہووزیر علی صبا لکھنؤی
  13. جو عدوئے باغ ہو برباد ہوکوئی ہو گلچیں ہو یا صیاد ہووزیر علی صبا لکھنؤی
  14. داغ جنوں دماغ پریشاں میں رہ گیادامن میں خار چاک گریباں میں رہ گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
  15. دل پر داغ باغ کس کا ہےدیدۂ تر ایاغ کس کا ہےوزیر علی صبا لکھنؤی
  16. دل ہے غذائے رنج جگر ہے غذائے رنجپیدا کیا ہے ہم کو خدا نے برائے رنجوزیر علی صبا لکھنؤی
  17. دیکھ کر خوش رنگ اس گل پیرہن کے ہاتھ پاؤںپھول جاتے ہیں جوانان چمن کے ہاتھ پاؤںوزیر علی صبا لکھنؤی
  18. رنگ ہے اے ساقیٔ سرشار قیصر باغ میںپھول پیتے ہیں ترے مے خوار قیصر باغ میںوزیر علی صبا لکھنؤی
  19. عدوئے جاں بت بے باک نکلابڑا قاتل بڑا سفاک نکلاوزیر علی صبا لکھنؤی
  20. عشق کا اختتام کرتے ہیںدل کا قصہ تمام کرتے ہیںوزیر علی صبا لکھنؤی
  21. فکر رنج و راحت کیسیدوزخ کیسا جنت کیسیوزیر علی صبا لکھنؤی
  22. قبر پر باد فنا آئیے گابے محل پاؤں نہ پھیلائیے گاوزیر علی صبا لکھنؤی
  23. کس منہ سے کہیں گناہ کیا ہیںتوبہ ہے رو سیاہ کیا ہیںوزیر علی صبا لکھنؤی
  24. محشر کا ہمیں کیا غم عصیاں کسے کہتے ہیںپلے پہ وہ بت ہوگا میزاں کسے کہتے ہیںوزیر علی صبا لکھنؤی
  25. واعظ کے میں ضرور ڈرانے سے ڈر گیاجام شراب لائے بھی ساقی کدھر گیاوزیر علی صبا لکھنؤی
  26. بے تابئ دل نے زار پا کردے دے پٹکا اٹھا اٹھا کروزیر علی صبا لکھنؤی
  27. کوئی صورت سے گر صفا ہوآئنۂ دل خدا‌ نما ہووزیر علی صبا لکھنؤی
  28. نفس نمرود ہے کیا ہونا ہےشرک موجود ہے کیا ہونا ہےوزیر علی صبا لکھنؤی