Poetry
- آخر اداس اداس طبیعت بھی کیا کرےاب میرا دل کسی سے محبت بھی کیا کرےVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- آنسوؤں کو اپنی پلکوں پر سجا کر لے گیامیں بھی اس محفل میں کچھ شمعیں جلا کر لے گیاVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- تیری ہی تصویر میں تیرا بدل ڈھونڈا گیاکتنی آسانی سے اک مشکل کا حل ڈھونڈا گیاVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- دنیا میں وہی لوگ برے ہیں جو بھلے ہیںڈھونڈو گے اندھیرے تو چراغوں کے تلے ہیںVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- کس کس کی یاد دل کو ستاتی ہے کیا کہیںتنہائی کیا کیا بزم سجاتی ہے کیا کہیںVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- مٹیں گے میرے دل سے رنج و غم آہستہ آہستہقرار آئے گا تجھ کو چشم نم آہستہ آہستہVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- ہو گئے رخصت مرے ارمان ایسا کچھ نہیںتیرا غم دل میں نہ ہو مہمان ایسا کچھ نہیںVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- پہلے ڈالی ترے چہرے پہ بہت دیر نظرعید کا چاند تو پھر بعد میں دیکھا میں نےVijendra Singh Parwaz (b. 1943)
- مجھے شراب پلائی گئی ہے آنکھوں سےمرا نشہ تو ہزاروں برس میں اترے گاVijendra Singh Parwaz (b. 1943)