Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آغاز گل ہے شوق مگر تیز ابھی سے ہےیعنی ہوائے باغ جنوں خیز ابھی سے ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  2. ایک جلوہ بصد انداز نظر دیکھ لیاتجھ کو ہی دیکھا کئے تجھ کو اگر دیکھ لیاTabish Dehlvi (1911–2004)
  3. باغ میں جوشِ بہار آخر یہاں تک آ گیابڑھتے بڑھتے شعلہ گُل آشیاں تک آ گیاTabish Dehlvi (1911–2004)
  4. بند غم مشکل سے مشکل تر کھلاہم سے جب کوئی پری پیکر کھلاTabish Dehlvi (1911–2004)
  5. بہت جبین و رخ و لب بہت قد و گیسوطلب ہے شرط سکوں کے ہزار ہا پہلوTabish Dehlvi (1911–2004)
  6. پابندیٔ حدود سے بیگانہ چاہئےداماں بقدر وحشت‌ دیوانہ چاہئےTabish Dehlvi (1911–2004)
  7. تابشؔ ہوس لذت آزار کہاں تکراحت سے یہ غم پھر بھی مرے یار کہاں تکTabish Dehlvi (1911–2004)
  8. ٹوٹ کر عہد تمنا کی طرحمعتبر ہم رہے فردا کی طرحTabish Dehlvi (1911–2004)
  9. دھومیں مچائیں سبزہ روندیں پھولوں کو پامال کریںجوش جنوں کا یہ عالم ہے اب کیا اپنا حال کریںTabish Dehlvi (1911–2004)
  10. دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیںکوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیںTabish Dehlvi (1911–2004)
  11. زیر لب رہا نالہ درد کی دوا ہو کرآہ نے سکوں بخشا آہ نارسا ہو کرTabish Dehlvi (1911–2004)
  12. سب غم کہیں جسے کہ تمنا کہیں جسےوہ اضطراب شوق ہے ہم کیا کہیں جسےTabish Dehlvi (1911–2004)
  13. سب نے مجھ ہی کو در بدر دیکھابے گھری نے مرا ہی گھر دیکھاTabish Dehlvi (1911–2004)
  14. سوز پرور نگاہ رکھتے ہیںہم نظر میں بھی آہ رکھتے ہیںTabish Dehlvi (1911–2004)
  15. شرمندہ ہم جنوں سے ہیں ایک ایک تار کےکیا کیجیئے کہ دن ہیں ابھی تک بہار کےTabish Dehlvi (1911–2004)
  16. عذاب ٹوٹے دلوں کو ہر اک نفس گزراشکستہ پا تھے گراں مژدۂ جرس گزراTabish Dehlvi (1911–2004)
  17. کسی مسکین کا گھر کھلتا ہےیا کوئی زخم نظر کھلتا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  18. منزلوں کو نظر میں رکھا ہےجب قدم رہ گزر میں رکھا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  19. مہ و پرویں تہ کمند رہےکن فضاؤں میں ہم بلند رہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  20. نفس کی زد پہ ہر اک شعلۂ تمنا ہےہوا کے سامنے کس کا چراغ جلتا ہےTabish Dehlvi (1911–2004)
  21. ہمہ تن گوش اک زمانہ تھامیرے لب پر ترا فسانہ تھاTabish Dehlvi (1911–2004)
  22. یوں نقاب رخ مقابل سے اٹھیچشم صد نظارہ مشکل سے اٹھیTabish Dehlvi (1911–2004)
  23. آئینہ جب بھی رو بہ رو آیااپنا چہرہ چھپا لیا ہم نےTabish Dehlvi (1911–2004)
  24. ذرے میں گم ہزار صحراقطرے میں محیط لاکھ قلزمTabish Dehlvi (1911–2004)
  25. شاہوں کی بندگی میں سر بھی نہیں جھکایاتیرے لیے سراپا آداب ہو گئے ہمTabish Dehlvi (1911–2004)