Poetry
- اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کاگئے ہیں نالے جو سوئے گردوں تو اشک نے رخ کیا زمیں کاشبلی نعمانی
- پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھارخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھاشبلی نعمانی
- تیر قاتل کا یہ احساں رہ گیاجائے دل سینہ میں پیکاں رہ گیاشبلی نعمانی
- تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوںواعظ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوںشبلی نعمانی
- علمائے زندانیشبلی نعمانی
- ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کوغم اٹھانے کا بھی باقی نہیں یارا ہم کوشبلی نعمانی
- یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائےگل تر کو ہوس خار نہ ہونے پائےشبلی نعمانی
- مولویوں کا شغل تکفیرشبلی نعمانی
- حقائق اشیا اور معشوق حقیقیشبلی نعمانی
- عدل فاروقی کا ایک نمونہشبلی نعمانی
- عدل جہانگیریشبلی نعمانی
- کچھ اکیلی نہیں میری قسمتغم کو بھی ساتھ لگا لگائی ہےشبلی نعمانی
- مسلم لیگشبلی نعمانی