Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اثر کے پیچھے دل حزیں نے نشان چھوڑا نہ پھر کہیں کاگئے ہیں نالے جو سوئے گردوں تو اشک نے رخ کیا زمیں کاشبلی نعمانی
  2. پوچھتے کیا ہو جو حال شب تنہائی تھارخصت صبر تھی یا ترک شکیبائی تھاشبلی نعمانی
  3. تیر قاتل کا یہ احساں رہ گیاجائے دل سینہ میں پیکاں رہ گیاشبلی نعمانی
  4. تیس دن کے لئے ترک مے و ساقی کر لوںواعظ سادہ کو روزوں میں تو راضی کر لوںشبلی نعمانی
  5. علمائے زندانیشبلی نعمانی
  6. ناتواں عشق نے آخر کیا ایسا ہم کوغم اٹھانے کا بھی باقی نہیں یارا ہم کوشبلی نعمانی
  7. یار کو رغبت اغیار نہ ہونے پائےگل تر کو ہوس خار نہ ہونے پائےشبلی نعمانی
  8. مولویوں کا شغل تکفیرشبلی نعمانی
  9. حقائق اشیا اور معشوق حقیقیشبلی نعمانی
  10. عدل فاروقی کا ایک نمونہشبلی نعمانی
  11. عدل جہانگیریشبلی نعمانی
  12. کچھ اکیلی نہیں میری قسمتغم کو بھی ساتھ لگا لگائی ہےشبلی نعمانی
  13. مسلم لیگشبلی نعمانی