Poetry
- آنا جانا ہے تو قامت سے تم آؤ جاؤدر اظہار مروت سے تم آؤ جاؤRafi Raza (b. 1962)
- آنکھ سہمی ہوئی ڈرتی ہوئی دیکھی گئی ہےامن کی فاختہ مرتی ہوئی دیکھی گئی ہےRafi Raza (b. 1962)
- اگرچہ وقت مناجات کرنے والا تھامرا مزاج سوالات کرنے والا تھاRafi Raza (b. 1962)
- ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہےاس سمندر میں کوئی اور سمندر گم ہےRafi Raza (b. 1962)
- پیڑ سوکھا حرف کا اور فاختائیں مر گئیںلب نہ کھولے تو گھٹن سے سب دعائیں مر گئیںRafi Raza (b. 1962)
- خواب میں یا خیال میں مجھے ملتو کبھی خد و خال میں مجھے ملRafi Raza (b. 1962)
- رات میں شانۂ ادراک سے لگ کر سویابند کی آنکھ تو افلاک سے لگ کر سویاRafi Raza (b. 1962)
- زمیں کا بوجھ اور اس پر یہ آسمان کا بوجھاتار پھینک دوں کاندھوں سے دو جہان کا بوجھRafi Raza (b. 1962)
- کبھی جو خاک کی تقریب رو نمائی ہوئیبہت اڑے گی وہاں بھی مری اڑائی ہوئیRafi Raza (b. 1962)
- لمس کو چھوڑ کے خوشبو پہ قناعت نہیں کرنے والاایسی ویسی تو میں اب تم سے محبت نہیں کرنے والاRafi Raza (b. 1962)
- میں اپنی آنکھ کو اس کا جہان دے دوں کیازمین کھینچ لوں اور آسمان دے دوں کیاRafi Raza (b. 1962)
- وحشت میں نکل آیا ہوں ادراک سے آگےاب ڈھونڈ مجھے مجمع عشاق سے آگےRafi Raza (b. 1962)