Poetry
- اب یہ عالم ہے کہ جس شے پہ نظر جاتی ہےہو بہ ہو آپ کی تصویر نظر آتی ہےRaees Niyazi (1920–1994)
- تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تووفور شوق نے کوئی مقام پایا توRaees Niyazi (1920–1994)
- جان دے دی رہرو منزل نے منزل کے قریبحوصلے طوفاں کے نکلے بھی تو ساحل کے قریبRaees Niyazi (1920–1994)
- جب سنبھل کر قدم اٹھاتا ہوںکوئی ٹھوکر ضرور کھاتا ہوںRaees Niyazi (1920–1994)
- جو نور دیکھتا ہوں میں جام شراب میںوہ آفتاب میں ہے نہ وہ ماہتاب میںRaees Niyazi (1920–1994)
- دل و نگاہ پہ جس کو ہو اختیار چلےرہ وفا میں کوئی بھی نہ خام کار چلےRaees Niyazi (1920–1994)
- عمر بھر دنیا کو سمجھاتا رہاخود فریب زندگی کھاتا رہاRaees Niyazi (1920–1994)
- غم جب ان کا دیا ہوا غم ہےحیف اس آنکھ پر جو پر نم ہےRaees Niyazi (1920–1994)
- منزل یار بے نشاں بھی نہیںدل ہو غافل تو رازداں بھی نہیںRaees Niyazi (1920–1994)
- نیاز عشق ہے ناز بتاں ہےمحبت کائنات دو جہاں ہےRaees Niyazi (1920–1994)
- ہر آئنہ نے کہا رخصت غبار کے بعدیہاں تو کچھ بھی نہیں ہے جمال یار کے بعدRaees Niyazi (1920–1994)
- یہ بھول جا کہ ہیں تیرے بھی غم گسار بہتبنانا کاغذی پھولوں کے خشک ہار بہتRaees Niyazi (1920–1994)