Poetry
- آپ نگاہ مست سے پتھر کو آب کیجیےتھامیے آب ہاتھ میں اور شراب کیجیےQamar Aasi (b. 1987)
- بے ثمر صحبتوں سے بہتر ہیںرنجشیں الفتوں سے بہتر ہیںQamar Aasi (b. 1987)
- چندا بھی بس رات میں اچھا لگتا ہےہر بندہ اوقات میں اچھا لگتا ہےQamar Aasi (b. 1987)
- حسن والوں کا سر ساحل نظارہ ہے کہ نئیںڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہے کہ نئیںQamar Aasi (b. 1987)
- دشمن سے اتحاد کے چکر میں پڑ گیاہر دوست اب مفاد کے چکر میں پڑ گیاQamar Aasi (b. 1987)
- عاقل ہے با شعور ہے کافی ذہین بھیاس پر ہے مستزاد وہ از حد حسین بھیQamar Aasi (b. 1987)
- کچھ ایسے چشم تمنا کو آزمایا گیاکسی بھی عکس کو پورا نہیں دکھایا گیاQamar Aasi (b. 1987)
- کسی حکیم نہ عطار سے شفا ہوگیوصال حسن طرح دار سے شفا ہوگیQamar Aasi (b. 1987)
- میں نے کچھ اشعار جوں ہی آئنے پر دم کیےعکس تیرا لا دکھایا اس نے سر کو خم کیےQamar Aasi (b. 1987)
- وقت رخصت مری ماں نے مرا ماتھا چومامنزلوں نے تبھی بڑھ کر مرا تلوا چوماQamar Aasi (b. 1987)