Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آہ مضراب محبت کے سوا کچھ بھی نہیںساز آہوں کی عبادت کے سوا کچھ بھی نہیںQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  2. اب اس کا اور کیا انجام ہوگامحبت کر کے جو بدنام ہوگاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  3. بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتایہ تڑپانا تڑپنا رات بھر دیکھا نہیں جاتاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  4. بہت مشکل سہی لیکن بصد مشکل بھی دیکھیں گےکہ انوار حقیقت طالبان دل بھی دیکھیں گےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  5. تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیاآج کیا آ گئی جی میں جو ادھر دیکھ لیاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  6. تیری بے رخی مری موت تھی ہوا التفات کبھی کبھیترے التفات کی خیر ہو کہ ملی حیات کبھی کبھیQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  7. جب تری زلف سیہ فام سنورتی ہوگیکتنی دنیا ترے جلوؤں سے نکھرتی ہوگیQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  8. جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آجاف رے خزاں رسیدہ چمن کی بہار آجQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  9. جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینااب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دیناQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  10. حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھینظارہ قبضۂ قدرت سے باہر یوں بھی ہے یوں بھیQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  11. علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھاجو چیز دیکھنے کی تھی اسے کہاں دیکھاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  12. عمر تھوڑی ہے اور کام بہتزندگی بھی ہے تیز گام بہتQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  13. فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہےاے عشق ترا کوئی ہوا خواہ نہیں ہےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  14. ہر طبیعت کو جہاں پیار بھری خو کہیےکون سے پھول کو اس باغ کی خوشبو کہیےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  15. ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیےدیکھنے کی شے نہ تھی دنیا مگر دیکھا کیےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  16. ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اوربدلے ہوئے حالات میں کھو جائیں گے ہم اورQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
  17. صاف انکار اگر ہو تو تسلی ہو جائےجھوٹے وعدوں سے ترے رنج سوا ہوتا ہےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)