Poetry
- آہ مضراب محبت کے سوا کچھ بھی نہیںساز آہوں کی عبادت کے سوا کچھ بھی نہیںQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- اب اس کا اور کیا انجام ہوگامحبت کر کے جو بدنام ہوگاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتایہ تڑپانا تڑپنا رات بھر دیکھا نہیں جاتاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- بہت مشکل سہی لیکن بصد مشکل بھی دیکھیں گےکہ انوار حقیقت طالبان دل بھی دیکھیں گےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- تم نے کیوں ہنس کے مجھے ایک نظر دیکھ لیاآج کیا آ گئی جی میں جو ادھر دیکھ لیاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- تیری بے رخی مری موت تھی ہوا التفات کبھی کبھیترے التفات کی خیر ہو کہ ملی حیات کبھی کبھیQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- جب تری زلف سیہ فام سنورتی ہوگیکتنی دنیا ترے جلوؤں سے نکھرتی ہوگیQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آجاف رے خزاں رسیدہ چمن کی بہار آجQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- جو ممکن ہو تو سوز شمع پروانے میں رکھ دینااب اس افسانے کا عنوان افسانے میں رکھ دیناQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- حسین اور اس پہ خودبیں وہ ستمگر یوں بھی ہے یوں بھینظارہ قبضۂ قدرت سے باہر یوں بھی ہے یوں بھیQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھاجو چیز دیکھنے کی تھی اسے کہاں دیکھاQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- عمر تھوڑی ہے اور کام بہتزندگی بھی ہے تیز گام بہتQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- فریاد نہیں اشک نہیں آہ نہیں ہےاے عشق ترا کوئی ہوا خواہ نہیں ہےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- ہر طبیعت کو جہاں پیار بھری خو کہیےکون سے پھول کو اس باغ کی خوشبو کہیےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیےدیکھنے کی شے نہ تھی دنیا مگر دیکھا کیےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اوربدلے ہوئے حالات میں کھو جائیں گے ہم اورQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)
- صاف انکار اگر ہو تو تسلی ہو جائےجھوٹے وعدوں سے ترے رنج سوا ہوتا ہےQaisar Haideri Dehlvi (1928–1992)