Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنے مرکز پہ نہ پورا ہوا چکر میرااجنبی ہاتھ بدلتے رہے محور میراPartav Rohila (1932–2016)
  2. اس دشت‌ ہلاکت سے گزر کون کرے گابے امن خرابوں میں سفر کون کرے گاPartav Rohila (1932–2016)
  3. اس گرمئ بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھیسچ جانیے دکان کے اندر نہیں کچھ بھیPartav Rohila (1932–2016)
  4. حرص مال و منال میں کھویاہم نے فردا بھی حال میں کھویاPartav Rohila (1932–2016)
  5. ڈھلتی رات کہاں جاؤ گے بتلاؤ بابابھور بھئے تک اس کٹیا میں سو جاؤ باباPartav Rohila (1932–2016)
  6. میں جو صحرا میں کسی پیڑ کا سایا ہوتادل زدہ کوئی گھڑی بھر کو تو ٹھہرا ہوتاPartav Rohila (1932–2016)
  7. وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہےرخ پہ اس کے نیا چہرہ سا لگا رہتا ہےPartav Rohila (1932–2016)
  8. حسین کافوری انگلیوں میں سفید سگریٹ لیےوہ لڑکی کھڑی کھڑی اپنے شنگرفی نرم ہونٹوں سے یوں لگاتیPartav Rohila (1932–2016)
  9. کوئی کپڑے پہ بوٹے کاڑھے کوئی پھول بنائےکوئی اپنا بالک پالے کوئی گھر کو سجائےPartav Rohila (1932–2016)
  10. تمہیں یاد ہوگا کہ تم نے کہا تھاخوشی شادمانی کی کتنی بڑی اور حسیں سلطنت میرے زیر نگیں ہےPartav Rohila (1932–2016)
  11. چنانچہ سر شام ہم سب کسی خاندان فرنگی سے بہر ملاقات نکلےجامعہ میں حصول زر علم و دانش کو آئے ہوئے تھےPartav Rohila (1932–2016)
  12. مرے پن کشن میں بہت سی پنیں ہیںاور اکثر پنیں اس میں ایسی ہیں جو دور انجانے ملکوںPartav Rohila (1932–2016)
  13. وقت نے سب بھلا دیا پرتوؔعشق کیا شے ہے عاشقی کیا ہےPartav Rohila (1932–2016)