Poetry
- اپنے مرکز پہ نہ پورا ہوا چکر میرااجنبی ہاتھ بدلتے رہے محور میراPartav Rohila (1932–2016)
- اس دشت ہلاکت سے گزر کون کرے گابے امن خرابوں میں سفر کون کرے گاPartav Rohila (1932–2016)
- اس گرمئ بازار سے بڑھ کر نہیں کچھ بھیسچ جانیے دکان کے اندر نہیں کچھ بھیPartav Rohila (1932–2016)
- حرص مال و منال میں کھویاہم نے فردا بھی حال میں کھویاPartav Rohila (1932–2016)
- ڈھلتی رات کہاں جاؤ گے بتلاؤ بابابھور بھئے تک اس کٹیا میں سو جاؤ باباPartav Rohila (1932–2016)
- میں جو صحرا میں کسی پیڑ کا سایا ہوتادل زدہ کوئی گھڑی بھر کو تو ٹھہرا ہوتاPartav Rohila (1932–2016)
- وہ نہ پہچانے یہ خدشہ سا لگتا رہتا ہےرخ پہ اس کے نیا چہرہ سا لگا رہتا ہےPartav Rohila (1932–2016)
- حسین کافوری انگلیوں میں سفید سگریٹ لیےوہ لڑکی کھڑی کھڑی اپنے شنگرفی نرم ہونٹوں سے یوں لگاتیPartav Rohila (1932–2016)
- کوئی کپڑے پہ بوٹے کاڑھے کوئی پھول بنائےکوئی اپنا بالک پالے کوئی گھر کو سجائےPartav Rohila (1932–2016)
- تمہیں یاد ہوگا کہ تم نے کہا تھاخوشی شادمانی کی کتنی بڑی اور حسیں سلطنت میرے زیر نگیں ہےPartav Rohila (1932–2016)
- چنانچہ سر شام ہم سب کسی خاندان فرنگی سے بہر ملاقات نکلےجامعہ میں حصول زر علم و دانش کو آئے ہوئے تھےPartav Rohila (1932–2016)
- مرے پن کشن میں بہت سی پنیں ہیںاور اکثر پنیں اس میں ایسی ہیں جو دور انجانے ملکوںPartav Rohila (1932–2016)
- وقت نے سب بھلا دیا پرتوؔعشق کیا شے ہے عاشقی کیا ہےPartav Rohila (1932–2016)