Poetry
- اپنے تصورات سے آگے نکل گیاکل شب میں کائنات سے آگے نکل گیاOsaama ameer (b. 1998)
- ایک دنیا نئی بنائیں گےہو بہ ہو آپ سی بنائیں گےOsaama ameer (b. 1998)
- بازار کائنات میں یہ فیصلہ ہوایاران خوش ادا ہو تمسخر روا ہواOsaama ameer (b. 1998)
- پری کے آنے کے امکان بنتے جاتے ہیںیہ دشت سارے گلستان بنتے جاتے ہیںOsaama ameer (b. 1998)
- جب روشنی چمکی تو اٹھایا سر ساحلمٹی کے پیالے میں تھا سونا سر ساحلOsaama ameer (b. 1998)
- ذہن میرا قیاس پہنے ہوئےدل ہے خوف و ہراس پہنے ہوئےOsaama ameer (b. 1998)
- زمیں پہ بیٹھ کے بے اختیار ڈھونڈھتا ہوںمیں آسمان کا گرد و غبار ڈھونڈھتا ہوںOsaama ameer (b. 1998)
- عجیب رات تھی وہ رات میں نہیں آیاکہ میرے خواب طلسمات میں نہیں آیاOsaama ameer (b. 1998)
- کبھی کبھی میں انہیں دل میں آن رکھتا ہوںپھر ایک خواب میں دونوں جہان رکھتا ہوںOsaama ameer (b. 1998)
- کتنے اسرار واہمے میں ہیںہم کہ مصروف کھوجنے میں ہیںOsaama ameer (b. 1998)
- میں نے سن رکھی ہے صاحب ایک کہانی دریا کیشام کنارے بیٹھ کے اک دن وہ بھی زبانی دریا کیOsaama ameer (b. 1998)