Poetry
- آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایامیری تقدیر نے پھر مجھ کو وطن دکھلایانسیم میسوری
- آئی بہار دور ہو ساقی شراب کادریا بہا دے بزم میں اشک کباب کانسیم میسوری
- تری گلی میں جو آئے وہ گھر نہیں جاتےجو تیرے در پہ ہیں وہ در بدر نہیں جاتےنسیم میسوری
- جنبش ابروئے قاتل کبھی ایسی تو نہ تھیبلبل جاں مری بسمل کبھی ایسی تو نہ تھینسیم میسوری
- دریا و موج سا کبھی ہم سے جدا نہ ہواے بت خدا تلک بھی ترا آشنا نہ ہونسیم میسوری
- سبزۂ خط ہے پیمبر رخ ہے قرآن بہارتو ہے قبلہ تو ہے کعبہ تو ہے ایمان بہارنسیم میسوری
- سر کو نوشہ کے مرے شاہ نے باندھا سہراسورۂ نور کا دکھلاتا ہے جلوہ سہرانسیم میسوری
- قبول کیجیے انکار کا مقام نہیںیہ جام مے ہے پری وصل کا پیام نہیںنسیم میسوری
- ملے بے نشاں کے نشاں کیسے کیسےبنے لا مکاں کے مکاں کیسے کیسےنسیم میسوری
- مہرباں مجھ پہ ہو اے رشک قمر آج کی راتآ مرے چاند کے ٹکڑے مرے گھر آج کی راتنسیم میسوری
- میرے احوال کا افسانہ بنایا ہوتاہر پری زاد کو دیوانہ بنایا ہوتانسیم میسوری
- میں نہ منت کش انگور ہوا خوب ہواچشم مخمور سے مخمور ہوا خوب ہوانسیم میسوری
- وہ بیکلی نہیں دل کو وہ اضطراب نہیںتمہارے ہجر کا اب کچھ مجھے عتاب نہیںنسیم میسوری