Poetry
- پڑی جو شعلۂ رخ پر نظر میں آگ لگیمثال طور جلا دل جگر میں آگ لگیعنایت اللہ روشن بدایونی
- تری گلی میں ترے جاں نثار بیٹھے ہیںنگاہ لطف کے امیدوار بیٹھے ہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
- خدا کا شکر ادا صبح و شام کرتے ہیںجو خاص بندے ہیں وہ خاص کام کرتے ہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
- دنیا میں ہم سا کوئی سراپا الم نہیںوہ دن ہی کون سا ہے کہ جو روز غم نہیںعنایت اللہ روشن بدایونی
- زمیں کو سر پہ اٹھائے ہوئے نہ چل غافلاگر ہے ہوش تو ہشیار ہو سنبھل غافلعنایت اللہ روشن بدایونی
- ستم فراق کے صدموں نے اے نگار کیاجگر کو خون کیا دل کو داغدار کیاعنایت اللہ روشن بدایونی
- کس بزم میں شمع تو نہیں ہےکس جا تری گفتگو نہیں ہےعنایت اللہ روشن بدایونی
- کیفیت دل اور ہے احوال جگر اوراک درد کی صورت ہے ادھر اور ادھر اورعنایت اللہ روشن بدایونی
- مال کچھ شے ہے نہ کچھ صاحب ساماں ہوناباعث فخر ہے انسان کو انساں ہوناعنایت اللہ روشن بدایونی
- وصل میں خوش کبھی دل ہجر میں جلتے دیکھارنگ نیرنگ جہاں سے یہ بدلتے دیکھاعنایت اللہ روشن بدایونی
- ہر ایک کا حامی وہ مصیبت میں ہوا ہےجس کا کوئی دنیا میں نہیں اس کا خدا ہےعنایت اللہ روشن بدایونی