Poetry
- آپ آئے تھے یاں جفا کے لئےجائیے بھی کہیں خدا کے لئےمرزا مسیتابیگ منتہی
- بزم عالم میں بہت سے ہم نے مارے ہاتھ پاؤںتیری صورت کے نہ دیکھے پیارے پیارے ہاتھ پاؤںمرزا مسیتابیگ منتہی
- جان دی ان پہ مر مٹے سسکےہیں حسیں لوگ آشنا کس کےمرزا مسیتابیگ منتہی
- جوانی کی حالت گزر جائے گیچڑھی ہے جو سر پر اتر جائے گیمرزا مسیتابیگ منتہی
- جور افلاک بسکہ جھیلے ہیںایسے پاپڑ بہت سے بیلے ہیںمرزا مسیتابیگ منتہی
- حسن کی دل میں مرے جلوہ گری رہتی ہےبند اس شیشۂ نازک میں پری رہتی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- دنیا میں یہی چور بناتا ہے عسس کواللہ کرے قطع کہیں دست ہوس کومرزا مسیتابیگ منتہی
- دیر و حرم کو چھوڑ کے اے دل چل بیٹھو میخانے میںخوب گزر جائے گی اپنی ساقی سے یارانے میںمرزا مسیتابیگ منتہی
- رہ گئے اشکوں میں لخت جگر آتے آتےرک گئے بحر سے لعل و گہر آتے آتےمرزا مسیتابیگ منتہی
- صرصر گیسو ہلا رہی ہےسر پر کالے کھلا رہی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- فغان و آہ سے پیدا کیا درد جدائی کوغضب میں جان کو ڈالا جتا کر آشنائی کومرزا مسیتابیگ منتہی
- فغان و آہ ہے ہر دم پکار رکھتا ہےغضب میں جان دل بے قرار رکھتا ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- قاتل عالم سے کیا یارانہ ہےدل چراغ گور کا پروانہ ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- کرتے ہیں چین بیٹھے حسن و جمال والےپھرتے ہیں مارے مارے کیا کیا کمال والےمرزا مسیتابیگ منتہی
- کلی جو گل کی چٹک رہی ہے طبیعت اپنی کھٹک رہی ہےجہاں میں وحشت بھٹک رہی ہے ہزار سر کو پٹک رہی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- مبتلا یہ دل ہوا جب یار ننگا ہو گیاشمع بے پردہ ہوئی قرباں پتنگا ہو گیامرزا مسیتابیگ منتہی
- ممکن مجھے جو ہو بے ریا ہومسند ہو کہ اس میں بوریا ہومرزا مسیتابیگ منتہی
- منصور پیتے ہی مئے الفت بہک گیاجام مئے الست بھرا تھا چھلک گیامرزا مسیتابیگ منتہی
- نفس سگ پلید کو گر اپنے ماریےمانند شیر دشت جہاں میں ڈکاریےمرزا مسیتابیگ منتہی
- ہمیشہ سیر گل و لالہ زار باقی ہےاگر بغل میں دل داغدار باقی ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- یاد ہے روز ازل اس نے کہا کیا کیا کچھبر خلاف اس کے یہاں تو نے کیا کیا کیا کچھمرزا مسیتابیگ منتہی
- یہ جس نے جان دی ہے نان دے گادیا ہے جس نے سر سامان دے گامرزا مسیتابیگ منتہی
- در پہ اس شوخ کے جب جا بیٹھایار سب کہتے ہیں اچھا بیٹھامرزا مسیتابیگ منتہی
- صبح دم اٹھ کر ترا پہلو سے جانا یاد ہےلوٹنا دل کا جگر کا پھڑپھڑانا یاد ہےمرزا مسیتابیگ منتہی
- میٹھی ہے ایسی بات اس کیلونڈی ہے اک نبات اس کیمرزا مسیتابیگ منتہی