Poetry
- تجھے کچھ یاد ہے پہلا وہ عالم عشق پنہاں کاشگاف پردہ سے کیا تھا اشارہ چشم فتاں کاممنون نظام الدین
- تجھے نقش ہستی مٹایا تو دیکھاجو پردہ تھا حائل اٹھایا تو دیکھاممنون نظام الدین
- جو بعد مرگ بھی دل کو رہی کنار میں جاتو سو چکا میں فراغت سے بس مزار میں جاممنون نظام الدین
- جھکی نگہ میں ہے ڈھب پرسش نہانی کاحیا میں زور دیا رنگ مہربانی کاممنون نظام الدین
- رکھے ہے رنگ کچھ ساقی شراب ناب آتش کامقطر کیا کیا لے کر گل شاداب آتش کاممنون نظام الدین
- کب گل ہے ہوا خواہ صبا اپنے چمن کاوا جنبش دم سے ہے رفو زخم کہن کاممنون نظام الدین
- کل وصل میں بھی نیند نہ آئی تمام شبایک ایک بات پر تھی لڑائی تمام شبممنون نظام الدین
- کھا کے کل ہو پیچ و تاب اٹھا جو دل سے نالہ تھاجا کے گردوں پہ چمکتا شعلۂ جوالہ تھاممنون نظام الدین
- گماں نہ کیونکہ کروں تجھ پہ دل چرانے کاجھکا کے آنکھ سبب کیا ہے مسکرانے کاممنون نظام الدین
- نور مہ کو شب تہ ابر تنک کیا لاف تھابال اس مکھڑے سے اٹھ جاتے تو مطلع صاف تھاممنون نظام الدین
- ہر حرف آرزو پہ کرے تھا وہ یار بحثایک ایک بات پر تھی اسے شب ہزار بحثممنون نظام الدین
- ترے بیمار کی شاید وداع جان ہے تن سےجنازے کی وگرنہ واں ہے تیاری کا کیا باعثممنون نظام الدین
- رہے ہے روکش نشتر ہر آبلہ دل کایہ حوصلہ ہے کوئی بلبے حوصلہ دل کاممنون نظام الدین
- کوئی ہمدرد نہ ہمدم نہ یگانہ اپناروبرو کس کے کہیں ہم یہ فسانا اپناممنون نظام الدین