Poetry
- آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریںاور ہم ضبط سے لیں کام نہ فریاد کریںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماریبن بن کے بگڑنے لگی تقدیر ہماریمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھامدت سے کش مکش میں دل ناصبور تھامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- الفت عارض لیلیٰ میں پریشاں نکلاقیس مانند سحر چاک گریباں نکلامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوستآ رہی ہے آج کی منزل سے مجھ کو بوئے دوستمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- داد ملتی نظر اہل نظر سے پہلےموت آتی جو کہیں دل کو جگر سے پہلےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- دنیائے غم کو زیر و زبر کر سکے تو کررحمت کی مجھ پہ ایک نظر کر سکے تو کرمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- سر و گردن کی جدائی دیکھوتیغ قاتل کی صفائی دیکھومیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہیہائے کم بخت کہیں درد جگر ہو تو سہیمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- کسی حسرت زدہ نے خود کشی منظور کی دل سےصدا لبیک کی سن کر زمین کوئے قاتل سےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیااچھا ہوا جو دل کسی مشکل میں رہ گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میںجب کہ طاقت تھی کبھی آپ کے بیماروں میںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگآئیے دیکھیے مٹتی ہوئی تصویر کا رنگمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیامیرے بھی دل میں بڑا ارماں ستم گر رہ گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیاانسانیت کو دیکھ کے انساں کیا گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئےجی میں آتا ہے کہ اب قطرہ کو دریا کیجئےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگامرے کہنے میں کسی دن جو مرا دل ہوگامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- ہو چکا جو کہ مقدر میں تھا درماں ہونااب ترے ہاتھ ہے مشکل مری آساں ہونامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- جور زمیں نہ تھا ستم آسماں نہ تھاوہ بھی تھا وقت جب کہ غم دو جہاں نہ تھامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- نظم اتحادمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
- ہجر کی راتیںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی