Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ دل کھول کر بیداد پہ بیداد کریںاور ہم ضبط سے لیں کام نہ فریاد کریںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  2. آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماریبن بن کے بگڑنے لگی تقدیر ہماریمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  3. اچھا ہوا یہ وقت تو آنا ضرور تھامدت سے کش مکش میں دل ناصبور تھامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  4. الفت عارض لیلیٰ میں پریشاں نکلاقیس مانند سحر چاک گریباں نکلامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  5. ختم ہوگا اب سفر پیش نظر ہے روئے دوستآ رہی ہے آج کی منزل سے مجھ کو بوئے دوستمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  6. داد ملتی نظر اہل نظر سے پہلےموت آتی جو کہیں دل کو جگر سے پہلےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  7. دنیائے غم کو زیر و زبر کر سکے تو کررحمت کی مجھ پہ ایک نظر کر سکے تو کرمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  8. سر و گردن کی جدائی دیکھوتیغ قاتل کی صفائی دیکھومیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  9. شام تکلیف کی دنیا میں سحر ہو تو سہیہائے کم بخت کہیں درد جگر ہو تو سہیمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  10. کسی حسرت زدہ نے خود کشی منظور کی دل سےصدا لبیک کی سن کر زمین کوئے قاتل سےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  11. کہنا نہ مانا کوچۂ قاتل میں رہ گیااچھا ہوا جو دل کسی مشکل میں رہ گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  12. گھر کے گھبراتے نہ تھے ہجر کے آزاروں میںجب کہ طاقت تھی کبھی آپ کے بیماروں میںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  13. لیجئے ختم ہوا گردش تقدیر کا رنگآئیے دیکھیے مٹتی ہوئی تصویر کا رنگمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  14. میان سے تیرا اگر خنجر نکل کر رہ گیامیرے بھی دل میں بڑا ارماں ستم گر رہ گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  15. میں شمع بزم عالم امکاں کیا گیاانسانیت کو دیکھ کے انساں کیا گیامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  16. نوح کا طوفان اک آنسو سے برپا کیجئےجی میں آتا ہے کہ اب قطرہ کو دریا کیجئےمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  17. نہ فلک ہوگا نہ یہ کوچۂ قاتل ہوگامرے کہنے میں کسی دن جو مرا دل ہوگامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  18. ہو چکا جو کہ مقدر میں تھا درماں ہونااب ترے ہاتھ ہے مشکل مری آساں ہونامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  19. جور زمیں نہ تھا ستم آسماں نہ تھاوہ بھی تھا وقت جب کہ غم دو جہاں نہ تھامیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  20. نظم اتحادمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی
  21. ہجر کی راتیںمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی