Poetry
- اس کو میں ہوئے ہم وہ لب بام نہ آیااے جذبۂ دل تو بھی کسی کام نہ آیامیر تسکین دہلوی
- بے مہر کہتے ہو اسے جو بے وفا نہیںسچ ہے کہ بے وفا ہوں میں تم بے وفا نہیںمیر تسکین دہلوی
- تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھےہوا تجھ کو کیا بے وفا بیٹھے بیٹھےمیر تسکین دہلوی
- دل کس کی تیغ ناز سے لذت چشیدہ ہےہر زخم شوق سے لب حسرت گزیدہ ہےمیر تسکین دہلوی
- رہنے والوں کو ترے کوچے کے یہ کیا ہو گیامیرے آتے ہی یہاں ہنگامہ برپا ہو گیامیر تسکین دہلوی
- فرق کچھ تو چاہیئے اغیار سےسر الفت ہم چھپائیں یار سےمیر تسکین دہلوی
- کر سکے دفن نہ اس کوچہ میں احباب مجھےخاک میں دل کی کدورت نے دیا داب مجھےمیر تسکین دہلوی
- کیا کیا مزے سے رات کی عہد شباب میںچھوڑوں نہ عمر رفتہ گر آ جائے خواب میںمیر تسکین دہلوی
- گر میرے بیٹھنے سے وہ آزار کھینچتےتو اپنے در کی آ کے وہ دیوار کھینچتےمیر تسکین دہلوی
- نام لو گے جو یاں سے جانے کاآپ میں پھر نہیں میں آنے کامیر تسکین دہلوی
- ہوئے تھے بھاگ کے پردے میں تم نہاں کیونکروہ پہلی وصل کی شب شوخیاں تھیں ہاں کیونکرمیر تسکین دہلوی
- تم غیر سے ملو نہ ملو میں تو چھوڑ دوںگر اس وفا پہ کوئی کہے بے وفا مجھےمیر تسکین دہلوی