Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس کو میں ہوئے ہم وہ لب بام نہ آیااے جذبۂ دل تو بھی کسی کام نہ آیامیر تسکین دہلوی
  2. بے مہر کہتے ہو اسے جو بے وفا نہیںسچ ہے کہ بے وفا ہوں میں تم بے وفا نہیںمیر تسکین دہلوی
  3. تو کیوں پاس سے اٹھ چلا بیٹھے بیٹھےہوا تجھ کو کیا بے وفا بیٹھے بیٹھےمیر تسکین دہلوی
  4. دل کس کی تیغ ناز سے لذت چشیدہ ہےہر زخم شوق سے لب حسرت گزیدہ ہےمیر تسکین دہلوی
  5. رہنے والوں کو ترے کوچے کے یہ کیا ہو گیامیرے آتے ہی یہاں ہنگامہ برپا ہو گیامیر تسکین دہلوی
  6. فرق کچھ تو چاہیئے اغیار سےسر الفت ہم چھپائیں یار سےمیر تسکین دہلوی
  7. کر سکے دفن نہ اس کوچہ میں احباب مجھےخاک میں دل کی کدورت نے دیا داب مجھےمیر تسکین دہلوی
  8. کیا کیا مزے سے رات کی عہد شباب میںچھوڑوں نہ عمر رفتہ گر آ جائے خواب میںمیر تسکین دہلوی
  9. گر میرے بیٹھنے سے وہ آزار کھینچتےتو اپنے در کی آ کے وہ دیوار کھینچتےمیر تسکین دہلوی
  10. نام لو گے جو یاں سے جانے کاآپ میں پھر نہیں میں آنے کامیر تسکین دہلوی
  11. ہوئے تھے بھاگ کے پردے میں تم نہاں کیونکروہ پہلی وصل کی شب شوخیاں تھیں ہاں کیونکرمیر تسکین دہلوی
  12. تم غیر سے ملو نہ ملو میں تو چھوڑ دوںگر اس وفا پہ کوئی کہے بے وفا مجھےمیر تسکین دہلوی