Poetry
- پل خوشی کے تو کبھی آنکھ میں پانی دے گاوقت ہر روز نئی ایک کہانی دے گاMadhu Madhuman
- پہاڑوں سے راہ سفر پر اکیلےنکلتے ہیں دریا سراسر اکیلےMadhu Madhuman
- پیرہن جسم پہ اور منہ میں نوالا ہوتاکاش ہر شخص کے آنگن میں اجالا ہوتاMadhu Madhuman
- چمن سے خوشبوؤں کا استعارہ لے گیا کوئیہمارے گلستاں سے رنگ سارا لے گیا کوئیMadhu Madhuman
- کچھ اس قدر طویل تھا وہ دور انتظار کاکہ رفتہ رفتہ بجھ گیا چراغ دل میں پیار کاMadhu Madhuman
- کسی کی خامیوں کا تذکرہ نہیں کرتےیوں اپنے آپ کو چھوٹا کیا نہیں کرتےMadhu Madhuman
- ماضی کے گلستاں میں جب لے چلیں گی آنکھیںلمحوں کی خوشبوؤں سے مہکا کریں گی آنکھیںMadhu Madhuman
- ہم نے خود کو کبھی بیزار نہیں ہونے دیااپنی امید کو مسمار نہیں ہونے دیاMadhu Madhuman