Poetry
- تکبر کا سفینہ اے ستم گر ڈوب جاتا ہےانا کے ایک قطرے میں سمندر ڈوب جاتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے بعدلوگ طوفان اٹھا لیتے ہیں الزام کے بعدM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- جدا شجر سے کسی برگ کو ہوا نہ کرےچمن میں باد مخالف چلے خدا نہ کرےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- چراغوں کو بجھانا چاہتا ہےاندھیرا مسکرانا چاہتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- خیر کو خیر شر کو شر کہناسر قلم ہو تو ہو مگر کہناM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- دل کو شہرت کا طلب گار نہ ہونے دیجےخود کو رسوا سر بازار نہ ہونے دیجےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- کل جو ممکن تھا آج ہے ہی نہیںدرد مند اب سماج ہے ہی نہیںM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- کوئی سنتا نہیں صحرا کی صدا ہو جیسےمیری فریاد بھی مفلس کی دعا ہو جیسےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- کہیں گلاب کہیں سبز گھاس رہنے دوچمن کو میرے ذرا خوش لباس رہنے دوM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- کہیں منزل کہیں رستہ پرانا چھوٹ جاتا ہےسفر میں زیست کے منظر سہانا چھوٹ جاتا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- نہ آسمان کو چھو کر نہ ہی تکان کے بعدپرند لوٹ کے آیا ہے کچھ اڑان کے بعدM. Nasrullah Nasr (b. 1957)
- وہ خود سے دور ہوتا جا رہا ہےبہت مشہور ہوتا جا رہا ہےM. Nasrullah Nasr (b. 1957)