Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اتنی مشکل میں بھی احباب نہ ڈالیں مجھ کوکہ سنبھلنا بھی نہ چاہوں تو سنبھالیں مجھ کوLais Quraishi (b. 1922)
  2. اہل جہاں کے ساتھ وفا یا جفا کروںمیری سمجھ میں کچھ نہیں آتا ہے کیا کروںLais Quraishi (b. 1922)
  3. بارہا یورش افکار نے سونے نہ دیافکر آزاد ہے آزار نے سونے نہ دیاLais Quraishi (b. 1922)
  4. بے قصد سفر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوںپھر خود ہی ٹھہر جاتے ہیں معلوم نہیں کیوںLais Quraishi (b. 1922)
  5. تم نے بھولے سے کبھی یہ نہیں سوچا ہوگاہم جو بچھڑیں گے تو کیا حال ہمارا ہوگاLais Quraishi (b. 1922)
  6. تیری جفا ہوئی کہ جہاں کا غضب ہواہم پر تو جو ستم بھی ہوا بے سبب ہواLais Quraishi (b. 1922)
  7. جو اتفاق سے ہم صاحب فراش ہوئےتو ہم پہ راز عزیزاں بھی خوب فاش ہوئےLais Quraishi (b. 1922)
  8. خوب انداز پذیرائی ہےعزت نفس پہ بن آئی ہےLais Quraishi (b. 1922)
  9. دل مضمحل ہے تیری نوازش کے باوجودیہ سرزمیں اداس ہے بارش کے باوجودLais Quraishi (b. 1922)
  10. سکوت لب کو مرے عرض حال ہی سمجھومری انائے خفی کو سوال ہی سمجھوLais Quraishi (b. 1922)
  11. ضمیر و ذہن سے کی ہیں بغاوتیں کیا کیامنافقوں سے نبھائیں رفاقتیں کیا کیاLais Quraishi (b. 1922)
  12. عمر بھر خواب محبت سے نہ بیدار ہوئےاسی کردار سے ہم صاحب کردار ہوئےLais Quraishi (b. 1922)
  13. کسی گماں کسی امکاں کا رخ نہیں کرتینگاہ جلوۂ ارزاں کا رخ نہیں کرتیLais Quraishi (b. 1922)
  14. کہیں سے بھی سخن معتبر نہیں آتانظر ہمیں کوئی اہل نظر نہیں آتاLais Quraishi (b. 1922)
  15. کئی پیام برائے سکون جاں تو ملےمگر تمام ہوئی اپنی داستاں تو ملےLais Quraishi (b. 1922)
  16. مسکرا سکتا نہیں آنسو بہا سکتا نہیںزندگی اب میں ترے احساں اٹھا سکتا نہیںLais Quraishi (b. 1922)
  17. نہیں یہ بات کہ پرواز کا ارادہ نہیںفضائے گلشن ہستی مگر کشادہ نہیںLais Quraishi (b. 1922)
  18. یہ آرزو ہیں ہم کوئی آرزو کرتےاسیر خود کو نہ ہم دام رنگ و بو کرتےLais Quraishi (b. 1922)
  19. یہ مسئلہ ہے اور کوئی مسئلہ نہیںاپنا حریف میں ہوں کوئی دوسرا نہیںLais Quraishi (b. 1922)
  20. تلخابۂ حیات پیا ہے تمام عمراب اور کیا ملائے گا ساقی شراب میںLais Quraishi (b. 1922)
  21. مری سمجھ میں نہ آیا یہ کاروبار حیاتکہاں ہے نفع کہاں ہے ضرر نہیں معلومLais Quraishi (b. 1922)
  22. یہی بہت ہے کہ زندہ ہیں قید زیست میں ہمیہ کیسی شام ہے کیسی سحر نہیں معلومLais Quraishi (b. 1922)