Poetry
- اس کو فراق یار کا مطلب نہیں پتہمطلب اسے بھی پیار کا مطلب نہیں پتہKaif Uddin Khan (b. 2000)
- بھلے سکوت میں ٹوٹے یا کو بہ کو ٹوٹےمیں چاہتا ہوں کہ اندر کی ہاؤ ہو ٹوٹےKaif Uddin Khan (b. 2000)
- پہلے تو یہ لگا مجھے اس پار گر گئیپھر یوں ہوا کہ مجھ پہ ہی دیوار گر گئیKaif Uddin Khan (b. 2000)
- حسین خواب کے نقش و نگار کیوں ٹوٹےخلاف باعث تعبیر تھے سو یوں ٹوٹےKaif Uddin Khan (b. 2000)
- کسی کے بعد رو کر کیا ملے گاملال عشق ہے ہو کر رہے گاKaif Uddin Khan (b. 2000)
- وہم کی انتہا ہے کیا یعنیمسند ذہن پہ خدا یعنیKaif Uddin Khan (b. 2000)
- یوں طلب گار ہو گیا ہے دلسمجھو بیمار ہو گیا ہے دلKaif Uddin Khan (b. 2000)