Poetry
- شب وصال ہنسی آتی ہے مقدر پروہ ہم سے روٹھ کے سونے چلے ہیں بستر پرجگر بسوانی
- شراب ناب کو منہ سے ذرا لگا واعظمے طہور کا میں وصف سن چکا واعظجگر بسوانی
- عبث ہے شوق لڑکپن میں ظلم ڈھانے کاجوان ہو کے گلا کاٹنا زمانے کاجگر بسوانی
- کیا غم ہجر اٹھا کر کوئی مر جائے گاجس طرح رات کٹی دن بھی گزر جائے گاجگر بسوانی
- منظور نظر ہے دل غم خوار تمہاراجو یار ہمارا ہے وہی یار تمہاراجگر بسوانی
- یوں بہ مشکل دل مجروح سے پیکاں نکلامیں یہ سمجھا کہ ترے وصل کا ارماں نکلاجگر بسوانی
- بچھا رکھوں میں آنکھیں رہ گزر میںکبھی آ جائیں شاید میرے گھر آپجگر بسوانی
- دیوانوں میں ذکر دل دیوانہ رہے گاجگر بسوانی
- جی بھر کے کبھی یار کا جلوہ نہیں دیکھادیکھا بھی تو اس طرح کہ گویا نہیں دیکھاجگر بسوانی