Poetry
- انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کاتھمتا نہیں ہے پانوں ہمارے غبار کاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئیمٹی پہ کی نگاہ تو اکسیر ہو گئیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھیعاشق کی ایک بات جو دیوانہ پن میں تھیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- راہ و رسم ابتدائی دیکھ لیانتہائے بے وفائی دیکھ لیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- رواںؔ کس کو خبر عنوان آغاز جہاں کیا تھازمیں کا کیا تھا نقشہ اور رنگ آسماں کیا تھاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھاکس درجہ کامیاب فریب مجاز تھاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- غرض رہبر سے کیا مجھ کو گلہ ہے جذب کامل سےکہ جتنا بڑھ رہا ہوں ہٹ رہا ہوں دور منزل سےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- گل ویرانہ ہوں کوئی نہیں ہے قدرداں میراتو ہی دیکھ اے مرے خلاق حسن رائیگاں میراJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- نکل جائے یوں ہی فرقت میں دم کیانہ ہوگا آپ کا مجھ پر کرم کیاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیامجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گیختم رفتہ رفتہ اک دن زندگی ہو جائے گیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- اب دشمن جاں ہی کلفت غم ساقیفریاد لبوں پر آ گیا دم ساقیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- سرمایۂ اعتبار دے دیں تم کورنگ حسن بہار دے دیں تم کوJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- نالہ تیرا ناز سے بالا ہےیہ راز افشائے راز سے بالا ہےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- ہر قلب پہ بجلیاں گراتی آئیایک آگ سی ہر طرف لگاتی آئیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- افلاس اچھا نہ فکر دولت اچھیجو دل کو پسند ہو وہ حالت اچھیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- انداز جفا بدل کے دیکھو تو سہیپاؤں سے یہ پھول مل کے دیکھو تو سہیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- پھولوں سے تمیز خار پیدا کر لیںیک رنگیٔ اعتبار پیدا کر لیںJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- تم تیشۂ باغباں سے کیوں مضطر ہوشاید یہ قلم ہی نخل بار آور ہوJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- ملنا کس کام کا اگر دل نہ ملےچلنا بے کار ہے جو منزل نہ ملےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- تلسی داسJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- پیش تو ہوگا عدالت میں مقدمہ بیشکجرم قاتل ہی کے سر ہو یہ ضروری تو نہیںJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
- وہ بادہ نوش حقیقت ہے اس جہاں میں رواںؔکہ جھوم جائے فلک گر اسے خمار آئےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)