Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. انجام یہ ہوا ہے دل بے قرار کاتھمتا نہیں ہے پانوں ہمارے غبار کاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  2. تقدیر جب معاون تدبیر ہو گئیمٹی پہ کی نگاہ تو اکسیر ہو گئیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  3. جینے میں تھی نہ نزع کے رنج و محن میں تھیعاشق کی ایک بات جو دیوانہ پن میں تھیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  4. راہ و رسم ابتدائی دیکھ لیانتہائے بے وفائی دیکھ لیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  5. رواںؔ کس کو خبر عنوان آغاز جہاں کیا تھازمیں کا کیا تھا نقشہ اور رنگ آسماں کیا تھاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  6. سب کو گمان بھی کہ میں آگاہ راز تھاکس درجہ کامیاب فریب مجاز تھاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  7. غرض رہبر سے کیا مجھ کو گلہ ہے جذب کامل سےکہ جتنا بڑھ رہا ہوں ہٹ رہا ہوں دور منزل سےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  8. گل ویرانہ ہوں کوئی نہیں ہے قدرداں میراتو ہی دیکھ اے مرے خلاق حسن رائیگاں میراJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  9. نکل جائے یوں ہی فرقت میں دم کیانہ ہوگا آپ کا مجھ پر کرم کیاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  10. وہ خوش ہو کے مجھ سے خفا ہو گیامجھے کیا امیدیں تھیں کیا ہو گیاJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  11. یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گیختم رفتہ رفتہ اک دن زندگی ہو جائے گیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  12. اب دشمن جاں ہی کلفت غم ساقیفریاد لبوں پر آ گیا دم ساقیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  13. سرمایۂ اعتبار دے دیں تم کورنگ حسن بہار دے دیں تم کوJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  14. نالہ تیرا ناز سے بالا ہےیہ راز افشائے راز سے بالا ہےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  15. ہر قلب پہ بجلیاں گراتی آئیایک آگ سی ہر طرف لگاتی آئیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  16. افلاس اچھا نہ فکر دولت اچھیجو دل کو پسند ہو وہ حالت اچھیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  17. انداز جفا بدل کے دیکھو تو سہیپاؤں سے یہ پھول مل کے دیکھو تو سہیJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  18. پھولوں سے تمیز خار پیدا کر لیںیک رنگیٔ اعتبار پیدا کر لیںJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  19. تم تیشۂ باغباں سے کیوں مضطر ہوشاید یہ قلم ہی نخل بار آور ہوJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  20. ملنا کس کام کا اگر دل نہ ملےچلنا بے کار ہے جو منزل نہ ملےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  21. تلسی داسJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  22. پیش تو ہوگا عدالت میں مقدمہ بیشکجرم قاتل ہی کے سر ہو یہ ضروری تو نہیںJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)
  23. وہ بادہ نوش حقیقت ہے اس جہاں میں رواںؔکہ جھوم جائے فلک گر اسے خمار آئےJagat Mohan Lal Ravan (1889–1934)