Poetry
- جوانی کی امنگوں کا یہی انجام ہے شایدچلے آؤ کہ وعدے کی سہانی شام ہے شایدJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- جو حسیں حسن تغافل سے گزر جاتا ہےچاہنے والوں کے وہ دل سے اتر جاتا ہےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- چلے جائیے گا مری انجمن سےیہ کیا سن ہوں تمہارے دہن سےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- چمن میں خار ہی کیا گل بھی دل فگار ملےفریب خوردۂ رنگینیٔ بہار ملےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- دشت میں گلشن میں ہر جا کی ہے تیری جستجواب کہاں لے جا رہا ہے اے فریب رنگ و بوJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- دونوں جہاں کو زینت داماں کئے ہوئےبیٹھا ہوں دل میں آپ کو مہماں کئے ہوئےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- رنج سے واقف خوشی سے آشنا ہونے نہ دےزندگی کو اپنے مقصد سے جدا ہونے نہ دےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- کچھ ایسے اہل نظر زیر آسماں گزرےکہ جن کے فرش پہ بھی عرش کا گماں گزرےJafar Abbas Safvi (b. 1938)
- محبت کا فسانہ ہم سے دہرایا نہیں جاتابس اب ہم سے فریب آرزو کھایا نہیں جاتاJafar Abbas Safvi (b. 1938)