Poetry
- جذبات کے قصے ہیں ہنر لفظ گری ہےپلکوں پہ سجائی ہے جو اشکوں کی لڑی ہےJaani Lakhnavi (b. 1998)
- چار سو رقص کناں حسرت مسمار کے ساتھعمر ڈھل جائے تری یاد کی دیوار کے ساتھJaani Lakhnavi (b. 1998)
- خیال حسن بے مثال دسترس میں آ گیاخودی پہ اختیار میرا پیش و پس میں آ گیاJaani Lakhnavi (b. 1998)
- قافلے لٹ گئے سر نوک سناں تک پہنچےجب بہاروں کے طلب گار خزاں تک پہنچےJaani Lakhnavi (b. 1998)
- کچھ ایسے محفل میں اپنی جانب سبھی کا وہ دھیان کھینچتا ہےبنا اجازت کے جیسے جسموں سے اک ملک جان کھینچتا ہےJaani Lakhnavi (b. 1998)
- کھیلوں گا پھر کبھی کوئی داؤ وصال پرفی الحال منحصر ہوں میں اپنے ملال پرJaani Lakhnavi (b. 1998)
- نیرنگیٔ وحشت کی دھنک دیکھ رہے ہیںٹوٹے ہوئے تارے کی چمک دیکھ رہے ہیںJaani Lakhnavi (b. 1998)