Poetry
- اجلی اجلی برف کے نیچے پتھر نیلا نیلا ہےتیری یادوں میں یہ سرد دسمبر نیلا نیلا ہےGautam Rajrishi (b. 1975)
- اس بات کو ویسے تو چھپایا نہ گیا ہےسب کو یہ مگر راز بتایا نہ گیا ہےGautam Rajrishi (b. 1975)
- بات رک رک کر بڑھی پھر ہچکیوں میں آ گئیفون پر جو ہو نہ پائی چٹھیوں میں آ گئیGautam Rajrishi (b. 1975)
- بس گئی ہے رگ رگ میں بام و در کی خاموشیچیرتی سی جاتی ہے مجھ کو گھر کی خاموشیGautam Rajrishi (b. 1975)
- خواب جو بھی بنا وہ بنا رہ گیاعمر بیتی مگر بچپنا رہ گیاGautam Rajrishi (b. 1975)
- دھوپ لٹا کر امبر جب کنگال ہواچاند اگا کر پھر سے مالا مال ہواGautam Rajrishi (b. 1975)
- دیکھ کر وحشت نگاہوں کی زباں بے چین ہےپھر سلگنے کو کوئی اک داستاں بے چین ہےGautam Rajrishi (b. 1975)
- زندگی سے عمر بھر تک چلنے کا وعدہ کیااے مری کمبخت سانسو ہائے تم نے کیا کیاGautam Rajrishi (b. 1975)
- ساحلوں پر اداسی رہیاک ندی پھر سے پیاسی رہیGautam Rajrishi (b. 1975)
- کہ اس سے پہلے خزاں کا شکار ہو جاؤںسجا لوں خود کو مکمل بہار ہو جاؤںGautam Rajrishi (b. 1975)
- لمحہ گزر گیا ہے کہ عرصہ گزر گیاہے کون وو جو وقت کی سازش یے کر گیاGautam Rajrishi (b. 1975)
- وہ ٹکڑا رات کا بکھرا ہوا ساابھی تک دن پے ہے ٹھہرا ہوا ساGautam Rajrishi (b. 1975)
- ہوا جب کسی کی کہانی کہے ہےنئے موسموں کی زبانی کہے ہےGautam Rajrishi (b. 1975)
- ہیں جتنی پرتیں یہاں آسمان میں شاملسبھی ہوئیں مری حد کی اڑان میں شاملGautam Rajrishi (b. 1975)
- عشق ہوا جب ان کو پڑھتے دیکھا تھامیرؔ کی غزلیں دریا گنج کے سرکل پرGautam Rajrishi (b. 1975)