Poetry
- اگر وہ جھوٹ بھی بولے تو ہم سچ مان لیتے ہیںنقابوں میں چھپے چہروں کو ہم پہچان لیتے ہیںGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- اونچا اڑنے کا بھی ارمان ابھی باقی ہےپر تو کاٹے گئے پر جان ابھی باقی ہےGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- بجھی بجھی سی نظر میں قرار کس کا ہےہمیں بتا دو تمہیں انتظار کس کا ہےGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- تازہ بہ تازہ صبح کے اخبار کی طرحبیچا گیا میں آج بھی ہر بار کی طرحGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- ٹوٹے ہوئے پروں سے پرواز کر رہے ہیںہم پھر نئے صفر کا آغاز کر رہے ہیںGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- چاہتوں کا ذرا اثر بھی ہوپیار کی آگ اب ادھر بھی ہوGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- کوئی رہزن نہ اب راہبر چاہئےاس سفر میں ہمیں ہم سفر چاہئےGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- کوئی ہے تیر تو کوئی کمان جیسا ہےیہاں یقین بھی سب کا گمان جیسا ہےGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- میلا تن تو دھویا جائے میلے من کو دھوئے کونہنستا ہے جو سب کے دکھ میں اس کے دکھ میں روئے کونGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)
- یوں زندگی کے لئے بے قرار ہیں ہم لوگشکایتوں کے لئے شرمسار ہیں ہم لوگGanesh Gaikwad Aaghaz (b. 1970)