Poetry
- اجنبی رہ گزر کے تھے ہی نہیںہم جدھر تھے ادھر کے تھے ہی نہیںG R Kanwal (b. 1935)
- انا کی قید سے آزاد ہو کر کیوں نہیں آتاجو باہر ہے وہ میرے دل کے اندر کیوں نہیں آتاG R Kanwal (b. 1935)
- پہلے احباب کی کہانی لکھپھر ہر اک لفظ کے معانی لکھG R Kanwal (b. 1935)
- تجھ سے بچھڑے بھی تو حالات نے رونے نہ دیادل شکن وقت کے لمحات نے رونے نہ دیاG R Kanwal (b. 1935)
- جس کی بنیاد ہو جوانی پردیر لگتی ہے اس کہانی پرG R Kanwal (b. 1935)
- جہاں میں ہوں وہاں حالات کا منظر نہیں بدلاوہی ہیں چاند تارے رات کا منظر نہیں بدلاG R Kanwal (b. 1935)
- دریچہ ہو کہ در الجھا ہوا ہےمرا تو گھر کا گھر الجھا ہوا ہےG R Kanwal (b. 1935)
- دن مہینہ سال بہتر ہو گیارفتہ رفتہ حال بہتر ہو گیاG R Kanwal (b. 1935)
- فقیرانہ صدا خاموش کیوں ہےقلندر کی نوا خاموش کیوں ہےG R Kanwal (b. 1935)
- گھر نہیں رہ گزر میں رہتا ہےپاؤں میرا سفر میں رہتا ہےG R Kanwal (b. 1935)
- ماہ کتنے ہیں سال کتنے ہیںہجر کتنے وصال کتنے ہیںG R Kanwal (b. 1935)
- نئے انداز سے دیدار کر لوں پھر چلے جانامیں اپنی روح کو بیدار کر لوں پھر چلے جاناG R Kanwal (b. 1935)
- وہ ستم گر جدھر گیا ہوگااک زمانہ ادھر گیا ہوگاG R Kanwal (b. 1935)
- ہو نوشتہ یہ بھی جیسے کاتب تقدیر کاکاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کاG R Kanwal (b. 1935)