Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آپ کو غیر سے الفت ہو گئیہاں جبھی تو مجھ سے نفرت ہو گئیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  2. آج ہیں کعبہ نشیں کل ساکن بت خانہ ہماپنے بیگانے سے یکساں رکھتے ہیں یارانہ ہمFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  3. اشک آنکھوں میں جگر میں درد سوزش دل میں ہےاک محبت کی بدولت گھر کا گھر مشکل میں ہےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  4. اقرار ہی کے ساتھ یہ انکار ابھی سےدل توڑتے ہو کیوں مرا پیماں شکنی سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  5. امید وصل اس سے خدا کی قسم نہیںکہتے ہیں عرض بوسہ پہ وہ دم بہ دم نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  6. ایک دم اس نے جدا کی نہ نقاب عارضنہ ہوا دور شب وصل حجاب عارضFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  7. اے شیخ مجھ کو خواہش باغ ارم نہیںکوچہ بتوں کا میرے لیے اس سے کم نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  8. بتو کچھ حد بھی ہے جور و جفا کیہے آخر انتہا ہر ابتدا کیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  9. بن گئی دم پر یہاں ابروئے جاناں دیکھ کرچونکتا ہوں رات پھر خواب پریشاں دیکھ کرFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  10. تڑپیں کب تک تری فرقت میں محبت والےآ ادھر بھی کبھی او ناز و نزاکت والےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  11. تم کو جو مجھ سے شکایت ہے کہ شکوہ نہ کروبندہ پرور ہمیں ہر روز ستایا نہ کروFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  12. دل جائے مگر دھیان بتوں کا نہیں جاتاسر جائے مگر عشق کا سودا نہیں جاتاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  13. رہے ہمارے لئے شغل یاں کوئی نہ کوئیدیا کرے ہمیں غم آسماں کوئی نہ کوئیFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  14. شیدا مجھے بنایا گیسوئے عنبریں کادل ہی مرا ہوا ہے لو سانپ آستیں کاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  15. کیوں کہوں میں کہ ستم کا میں سزاوار نہ تھادل دیا تھا تجھے کس طرح گنہ گار نہ تھاFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  16. ہاں جھوٹ ہے وہ جان سے تم پر فدا نہیںسچ کہہ رہے ہو غیر کا یہ حوصلہ نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  17. ہر دم بتائے جاتے ہیں ہم بے وفا نہیںتم کو نہیں یقین تو شک کی دوا نہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  18. یہ سچ ہے ان میں یہ باتیں تو ہاں ہیںبڑے بد ظن نہایت بد گماں ہیںFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  19. کردار دیکھنا ہے تو صورت نہ دیکھیےملتا نہیں زمیں کا پتا آسمان سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  20. کل جو گلے ملتے تھے مجھ سے کل جو مجھے پہچانتے تھےآج مسافر جان کے کیسے رستے وہ انجان ہوئےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)
  21. کہہ کے یہ پھیر لیا منہ مرے افسانے سےفائدہ روز کہیں بات کے دہرانے سےFaheem Gorakhpuri (b. 1878)