Poetry
- اب کوئی بات ملاقات پہ مت چھوڑیئے گاحال کہہ دیجے گا حالات پہ مت چھوڑیئے گاEjaz Haidar (b. 1963)
- بات جھوٹی اثر خیالی ہےسرفروشی کا سر خیالی ہےEjaz Haidar (b. 1963)
- تاج میں ہو بھی سکتا ہےہیرا کھو بھی سکتا ہےEjaz Haidar (b. 1963)
- خوشی کی بات تھی لیکن مجھے رلا گئی ہےکہاں سے بات چلی تھی کہاں تک آ گئی ہےEjaz Haidar (b. 1963)
- سستا رہا ہوں میں ابھی ہلکان تو نہیںیہ زندگی ہے اتنی بھی آسان تو نہیںEjaz Haidar (b. 1963)
- عجیب طرح کا اک غم ہے جاں سے لپٹا ہوابگولا جیسے کوئی بادباں سے لپٹا ہواEjaz Haidar (b. 1963)
- گر نہیں کچھ بھی آپ سے ملناآپ سے پھر نہیں مجھے ملناEjaz Haidar (b. 1963)
- نئے برس بھی جو میلا لگایا جانا ہےگئے دنوں کو ہی اس میں بلایا جانا ہےEjaz Haidar (b. 1963)
- وہیں پہ غم ہے جہاں پر خوشی پڑی ہوئی ہےاور ان کے بیچ میں بھی دشمنی پڑی ہوئی ہےEjaz Haidar (b. 1963)
- ہجر پیہم ہے کیا کیا جائےمستقل غم ہے کیا کیا جائےEjaz Haidar (b. 1963)