Poetry
- اب کوئی غم گسار ہمارا نہیں رہادنیا کو اعتبار ہمارا نہیں رہادل شاہ جہانپوری
- اے عشق تو نے واقف منزل بنا دیااب مرحلوں کو اور بھی مشکل بنا دیادل شاہ جہانپوری
- بے سود ہے یہ جوش گریہ اے شمع سحر ہو جانے تکچھینٹا ترے اشک پیہم کا پہنچا نہ کبھی پروانے تکدل شاہ جہانپوری
- پھر اعتبار عشق کے قابل نہیں رہاجو دل تری نظر سے گرا دل نہیں رہادل شاہ جہانپوری
- تمکیں ہے اور حسن گریباں ہے اور ہمخودداریوں کا خواب پریشاں ہے اور ہمدل شاہ جہانپوری
- جہاں تک عشق کی توفیق ہے رنگیں بناتے ہیںوہ سنتے ہیں ہم ان کو سر گذشت دل سناتے ہیںدل شاہ جہانپوری
- حسن نے مان لیا قابل تعزیر مجھےنظر آئی ہے محبت کی یہ تقصیر مجھےدل شاہ جہانپوری
- کوچہ گردی میں جوانی جائے گیخاک ہو کر زندگانی جائے گیدل شاہ جہانپوری
- کیا کہئے داستان تمنا بدل گئیان کی بدلتے ہی دنیا بدل گئیدل شاہ جہانپوری
- کیوں کر نہ ہو مومن کو تمنائے مدینہہیں مالک جنت چمن آرائے مدینہدل شاہ جہانپوری
- مایوس ازل ہوں یہ مانا ناکام تمنا رہنا ہےجاتے ہو کہاں رخ پھیر کے تم مجھ کو تو ابھی کچھ کہنا ہےدل شاہ جہانپوری
- مئے کوثر کا اثر چشم سیہ فام میں ہےساقیٔ مست عجب کیف ترے جام میں ہےدل شاہ جہانپوری
- ہر سانس ہے شرح ناکامی پھر عشق کو رسوا کون کرےتکمیل وفا ہے مٹ جانا جینے کی تمنا کون کرےدل شاہ جہانپوری