Poetry
- اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یادوہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یادDavarka Das Shola (1910–1983)
- اپنی بے چارگی پہ رو نہ سکےتیرے کیا ہوتے اپنے ہو نہ سکےDavarka Das Shola (1910–1983)
- انساں بہ یک نگاہ برا بھی بھلا بھی ہےیعنی وہ مشت خاک تو ہے کیمیا بھی ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
- ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میںاپنی بد بختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میںDavarka Das Shola (1910–1983)
- دل بے مدعا کا مدعا کیااسے یکساں روا کیا ناروا کیاDavarka Das Shola (1910–1983)
- دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کرمیکدے میں خدا کی بات نہ کرDavarka Das Shola (1910–1983)
- ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹےنظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹےDavarka Das Shola (1910–1983)
- زندگی کیا ہے ابتلا کے سواشکوۂ درد لا دوا کے سواDavarka Das Shola (1910–1983)
- زیست بے وعدۂ انوار سحر ہے کہ جو تھیظلمت بخت بہ ہر رنگ و نظر ہے کہ جو تھیDavarka Das Shola (1910–1983)
- عشق میں آبرو خراب ہوئیزندگی سر بسر عذاب ہوئیDavarka Das Shola (1910–1983)
- غم کو وجہ حیات کہتے ہیںآپ بھی خوب بات کہتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)
- مری بے قراری مری آہ و زاری یہ وحشت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےپریشاں تو رہنا مگر کچھ نہ کہنا محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
- میری منزل کہاں ہے کیا معلومانتہا غم ہے ابتدا معلومDavarka Das Shola (1910–1983)
- نہیں کہتے کسی سے حال دل خاموش رہتے ہیںکہ اپنی داستاں میں تیرے افسانے بھی آتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)
- اے بے نیاز شوق فراواں کہاں ہے تواے نگہت شمیم بہاراں کہاں ہے توDavarka Das Shola (1910–1983)
- بیچاری کے آرام کی صورت ہی کہاں ہےبیوہ کی جوانی بھی عجب آفت جاں ہےDavarka Das Shola (1910–1983)