Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اپنوں کے ستم یاد نہ غیروں کی جفا یادوہ ہنس کے ذرا بولے تو کچھ بھی نہ رہا یادDavarka Das Shola (1910–1983)
  2. اپنی بے چارگی پہ رو نہ سکےتیرے کیا ہوتے اپنے ہو نہ سکےDavarka Das Shola (1910–1983)
  3. انساں بہ یک نگاہ برا بھی بھلا بھی ہےیعنی وہ مشت خاک تو ہے کیمیا بھی ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
  4. ایک رہزن کو امیر کارواں سمجھا تھا میںاپنی بد بختی کو منزل کا نشاں سمجھا تھا میںDavarka Das Shola (1910–1983)
  5. دل بے مدعا کا مدعا کیااسے یکساں روا کیا ناروا کیاDavarka Das Shola (1910–1983)
  6. دیکھ جرم و سزا کی بات نہ کرمیکدے میں خدا کی بات نہ کرDavarka Das Shola (1910–1983)
  7. ذرا نگاہ اٹھاؤ کہ غم کی رات کٹےنظر نظر سے ملاؤ کہ غم کی رات کٹےDavarka Das Shola (1910–1983)
  8. زندگی کیا ہے ابتلا کے سواشکوۂ درد لا دوا کے سواDavarka Das Shola (1910–1983)
  9. زیست بے وعدۂ انوار سحر ہے کہ جو تھیظلمت بخت بہ ہر رنگ و نظر ہے کہ جو تھیDavarka Das Shola (1910–1983)
  10. عشق میں آبرو خراب ہوئیزندگی سر بسر عذاب ہوئیDavarka Das Shola (1910–1983)
  11. غم کو وجہ حیات کہتے ہیںآپ بھی خوب بات کہتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)
  12. مری بے قراری مری آہ و زاری یہ وحشت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےپریشاں تو رہنا مگر کچھ نہ کہنا محبت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےDavarka Das Shola (1910–1983)
  13. میری منزل کہاں ہے کیا معلومانتہا غم ہے ابتدا معلومDavarka Das Shola (1910–1983)
  14. نہیں کہتے کسی سے حال دل خاموش رہتے ہیںکہ اپنی داستاں میں تیرے افسانے بھی آتے ہیںDavarka Das Shola (1910–1983)
  15. اے بے نیاز شوق فراواں کہاں ہے تواے نگہت شمیم بہاراں کہاں ہے توDavarka Das Shola (1910–1983)
  16. بیچاری کے آرام کی صورت ہی کہاں ہےبیوہ کی جوانی بھی عجب آفت جاں ہےDavarka Das Shola (1910–1983)